بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے موثر موسمیاتی اقدامات ناگزیر ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

جمعرات 7 مئی 2026 17:00

بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے موثر موسمیاتی اقدامات ناگزیر ہیں،  ڈاکٹر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے موثر موسمیاتی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ایسی تباہ کاریوں کو روکا جا سکے یا ان سے نمٹنے کے لیے ملک کو بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف-6/3 ہل ویو پارک میں کوکا کولا کے تعاون سے منعقدہ شجرکاری مہم میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مہم کا انعقاد وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اشتراک سے کیا گیا۔ یہ شجرکاری مہم وزارت کی وسیع تر شجرکاری مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں سبزہ بڑھانا اور شہری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

(جاری ہے)

تقریب کے دوران ایک مصوری مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مختلف سکولوں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

طلبہ نے ’’کلین اینڈ گرین اسلام آباد‘‘ کے موضوع پر پینٹنگز تیار کیں جس کے بعد انہوں نے پارک میں شجرکاری مہم میں بھی حصہ لیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے شجرکاری مہم کے دوران ایک پودا لگایا اور طلبہ سے ملاقات بھی کی۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور خیالات کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں کے پاس ایسی تخلیقی سوچ اور خیالات ہوتے ہیں جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور حفاظت کی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت نے اسلام آباد میں ہر الرجی پیدا کرنے والے پیپر ملبری درخت کے بدلے تین نئے درخت لگانے کا عہد کیا تھا اور جاری شجرکاری مہم اسی وعدے کو پورا کرنے کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس اقدام میں کوکا کولا کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتراکات دیگر کارپوریشنز کو بھی اپنی سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل زونگ اور ہم نیٹ ورک کے تعاون سے بھی دو شجرکاری مہمات منعقد کی جا چکی ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ کوکا کولا کی جانب سے 5,000 پودے فراہم کیے گئے ہیں اور اب ان کی حفاظت اور افزائش ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے مستقبل میں معاشرے سے جواب طلب کریں گے جبکہ میڈیا وزیر اور وزارت کو ان پودوں کے حوالے سے جوابدہ بنائے گا۔

موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے حالیہ سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلابوں میں 6 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے جبکہ بے شمار بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ کئی بچے ایسے بھی تھے جو موسمیاتی آفات کے باعث نقل مکانی کے بعد دوبارہ سکول نہ جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درخت اور جنگلات ایک قدرتی صنعت کی حیثیت رکھتے ہیں جو ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کے پگھلائو، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) اور تباہ کن سیلابوں کا باعث بن رہی ہے جبکہ شجرکاری اور جنگلات کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کوکا کولا کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے کہا کہ کوکا کولا پائیدار عوامی مقامات کے فروغ کے لیے شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے وزارت کے تعاون کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کمپنی آئندہ کم از کم 12 ماہ تک لگائے گئے پودوں کی نگرانی اور دیکھ بھال جاری رکھے گی۔ شجرکاری مہم میں سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈائریکٹر جنرل پاک-ای پی اے، انسپکٹر جنرل فاریسٹ اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔