Live Updates

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنالیا

پٹرول پر ٹیکسز 198 روپے سے زائد ہوگئے، ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکس شامل ہیں، آسمان کو چھوتی قیمتوں میں کمپنیوں کے منافع اور دیگر لیویز کا حصہ بھی نمایاں

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 9 مئی 2026 14:22

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنالیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے عوام فی لٹر ایندھن پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور مختلف مارجنز کی صورت میں وصول کر رہی ہے، پٹرول کی اصل قیمت اس کی فروخت کی قیمت سے کہیں کم ہے، اسی طرح ڈیزل پر بھی بھاری ڈیوٹیز عائد ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں شامل ٹیکسز اور دیگر اخراجات نے اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی فی لٹر قیمت صرف 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، حکومت فی لٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکس وصول کر رہی ہے، قیمت میں 29 روپے فی لٹر پریمیم بھی شامل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح ڈیزل جو ٹرانسپورٹ اور زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر بھی ٹیکسوں کی بھرمار ہے، ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکس شامل ہیں، ٹیکسوں کے بغیر ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے پٹرولیم لیوی اور 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ قیمتوں میں کمپنیوں کے منافع اور دیگر لیویز کا حصہ بھی نمایاں ہے، ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں کمپنیوں کو 7.87 روپے اور منافع کی مد میں 8.64 روپے دیے جا رہے ہیں، مال برداری کے لیے 7.25 روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ڈھائی روپے فی لٹر 'کلائمیٹ سپورٹ لیوی' بھی عوام کی جیب سے نکالی جا رہی ہے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :