Live Updates

خلیج میں کشیدگی جاری: امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق مجوزہ معاہدے پر ایران کے جواب کا منتظر

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 9 مئی 2026 14:00

خلیج میں کشیدگی جاری: امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق مجوزہ ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 مئی 2026ء) * خلیج میں کشیدگی جاری: امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق مجوزہ معاہدے پر ایران کے جواب کا منتظر


ایران جنگ: مجوزہ معاہدے پر امریکہ تہران کے جواب کا منتظر

خلیج کے پانیوں میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایک ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے باوجود کشیدگی میں واضح کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔

جبکہ امریکی انٹیلی جنس کے جائزے کے مطابق ایران طویل عرصے تک بحری ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس ہونے والی جھڑپیں جنگ بندی کے بعد اب تک کی سب سے شدید کارروائیاں تصور کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

متحدہ عرب امارات پر گزشتہ روز یعنی جمعے کو نئے سرے سے حملے ہوئے۔

واشنگٹن اب بھی تہران کے اس جواب کا منتظر ہے جو ممکنہ طور پر جنگ کے باضابطہ خاتمے اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر مذاکرات کا راستہ کھول سکتا ہے، تاہم مسلسل فوجی جھڑپیں اس سفارتی عمل کو کمزور کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

جمعہ آٹھ مئی کو روم میں، کسی جواب کی توقع کا اظہار کیا تھا۔

جبکہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تھا تہران ہنوز اپنے جواب پر غور و خوض کر رہا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے روز آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ صورتحال وقتی طور پر پُرسکون ہو گئی ہے، تاہم مزید جھڑپوں کا امکان موجود ہے۔

امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے ایران سے منسلک دو ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو ایک ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

امریکی لڑاکا طیارے کی کارروائی کے بعد انہیں واپس پلٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران بھر میں حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے تہران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ جنگ سے قبل، دنیا کی تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اسی تنگ آبی رستے سے گزرتا تھا۔

ادارت: افسر اعوان

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات