پاکستان کا 2040 تک 95 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف

ہفتہ 9 مئی 2026 12:29

پاکستان کا 2040 تک 95 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) پاکستان نے 2040 تک اپنی 95 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے جبکہ 2030 تک توانائی کے مجموعی نظام میں 60 فیصد صاف توانائی کا حصہ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ بات ملک کی طویل المدتی توانائی منتقلی حکمتِ عملی سے متعلق ایک سرکاری دستاویز میں سامنے آئی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان 2050 تک خود کو ایک ایسی معیشت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جہاں صنعت، گھریلو صارفین اور ٹرانسپورٹ کا نظام زیادہ تر قابلِ تجدید اور کم لاگت توانائی پر چل سکے۔

اس حکمتِ عملی کے تحت ملک 2035 تک قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار 50 فیصد تک بڑھانے اور اسی عرصے میں 14 ہزار میگاواٹ فوسل فیول پر مبنی بجلی گھروں کو مرحلہ وار ختم یا متبادل ذرائع پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

دستاویز میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کو 19 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد تک لانے اور ملک بھر میں 100 فیصد بجلی رسائی یقینی بنانے کا ہدف بھی شامل ہے۔

منصوبے کے مطابق 2035 تک تمام سرکاری سیکنڈری اسکولوں میں روف ٹاپ سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے، جبکہ شمسی، ہوا اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز میں روزگار اور مہارتوں کے فروغ کے لیے چھوٹے کاروباروں اور نوجوان کاروباری افراد میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں صرف تقریباً ایک فیصد حصہ ڈالتا ہے اور فی کس اخراج 2.3 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی ہے، تاہم درآمدی فوسل فیول پر انحصار کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

اس انحصار نے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھایا، ادائیگیوں کے توازن کے خسارے کو وسیع کیا، جبکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ 1.66 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔دستاویز کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی قدر میں تبدیلی نے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہوئی اور کم استعمال ہونے والی پیداواری صلاحیت کے باوجود ادائیگیوں جیسے مالی مسائل پیدا ہوئے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ شمسی، ہوا، پن بجلی اور بائیو ماس جیسے مقامی قابلِ تجدید ذرائع کی جانب منتقلی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، بجلی کی لاگت گھٹانے، توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے، اور فضائی آلودگی و کاربن اخراج میں کمی کے لیے ناگزیر ہے۔دستاویز کے مطابق اس منتقلی کو کامیاب بنانے اور نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، اور بجلی کے گرڈ کی جدید کاری میں سرمایہ کاری ضروری ہوگی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بجلی پر منتقل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دستاویز میں اپریل 2025 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 2024 میں 17 گیگاواٹ کے سولر پاور سسٹمز درآمد کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا تھے۔ بڑھتی ہوئی بجلی قیمتوں اور سولر پینلز کی کم ہوتی لاگت کے باعث پاکستان دنیا میں سولر پینلز درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا۔