تعلیم یا تعصب: ہمارا نصاب بچوں کو کیا سکھا رہا ہے؟

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 9 مئی 2026 12:40

تعلیم یا تعصب: ہمارا نصاب بچوں کو کیا سکھا رہا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 مئی 2026ء) حماد کریم ساتویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ ضلع خوشاب کے گاؤں ہموکہ میں ان کا اسکول گھر سے محض پانچ منٹ کی دوری پر ہے۔ وہ کئی برس تک اکیلے اسکول جاتے رہے، مگر گزشتہ ایک سال سے ان کی والدہ انہیں چھوڑنے جاتی ہیں۔

راستے میں دیسی کیکر کی جھاڑیاں ہیں، حماد کو ان سے خوف آتا ہے۔

حماد کے والد سکندر ہموکہ کہتے ہیں، ”اسکول میں تحریکِ پاکستان اور ہجرت کا پس منظر پڑھاتے ہوئے اردو کے ٹیچر نے کہہ دیا کہ یہاں پہلے کھتری رہتے تھے، جو مسلمانوں کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔

وہ اکثر جھاڑیوں میں چھپ کر حملے کرتے تھے۔ یہاں بہت لڑائی ہوئی، کئی لوگ مارے گئے۔"

سکندر کہتے ہیں، ”حماد نے کبھی کسی کھتری کو دیکھا نہیں، مگر ان کے ذہن میں ایک خوفناک تصور بن چکا ہے، ایسا تصور جو سنی سنائی باتوں اور نصاب کے مبہم حوالوں سے تشکیل پایا۔

(جاری ہے)

ہم نے اس کے دل سے یہ ڈر نکالنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

"

کیا یہ محض حماد کی کہانی ہے؟ بہت سے سماجی دانشوروں کے مطابق، ہمارے بچے اکثر دوسری ثقافتوں اور مذاہب کے حوالے سے عجیب و غریب غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے سابق اسکول ٹیچر اور سماجی مصنف احمد اعجاز کہتے ہیں، ”پاکستانی معاشرے میں بہت کم بچوں کو کسی دوسرے مذہب کے بچوں کو دیکھنے یا ان کے ساتھ کھیلنے کا اتفاق ہوتا ہے، اکثریت کے تصورات سنی سنائی باتوں پر بنتے ہیں۔

"

ان کے بقول، ”یہ تصورات گھر سے چلتے ہیں جنہیں ہمارا نصاب اور اساتذہ مزید پختہ کر دیتے ہیں، آہستہ آہستہ یہ تعصبات غیر محسوس طریقے سے ہمارے رویوں کا حصہ بن جاتے ہیں، ہماری اکثریت کو ادراک ہی نہیں ہو پاتا کہ ہندو، سکھ، مسیحی وغیرہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ ہمارے بچے اکثر انہیں کوئی اور ہی مخلوق سمجھتے رہتے ہیں۔"

اسکولوں کی نصابی کتابیں بچوں کو کیا سکھا رہی ہیں؟

چند روز قبل Inclusive Education for a United and Harmonious Pakistan کے نام سے شائع ہونے والی ایک تحقیق نصاب کو 'ہم آہنگی‘ کے بجائے 'فاصلے‘ پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

یہ تحقیق پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں پرائمری سطح پر پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے اکیاون مقامات کی نشاندہی کرتی ہے جو غیر مسلم بچوں کے آئینی حقوق سے متصادم اور مسلم بچوں میں تنگ نظری کو فروغ دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق، نصاب میں تنوع کی شدید کمی پائی جاتی ہے، جبکہ غیر مسلموں کے بارے میں نفرت انگیز مواد، غلط معلومات، مذہبی بنیادوں پر نفرت اور جنگ کی ستائش واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں نصابی مواد کی چند مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر تیسری جماعت کی کتاب اخلاقیات کے ایک سبق، 'مظاہر کی پوجا‘ میں آگ اور دیگر مظاہرِ فطرت کی عبادت کو قدیم انسان کے خوف سے جوڑا گیا ہے۔ سبق میں لکھا گیا ہے، ”جب انسانوں کے علم میں اضافہ ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آتی گئی۔"

محققین کے مطابق، اس طرزِ بیان سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ مظاہرِ فطرت کی پوجا محض ماضی کی ایک غیر عقلی روایت تھی، جبکہ آج بھی دنیا کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں اس نوعیت کے عقائد موجود ہیں۔

اسی طرح تحقیق میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ نصابی کتابوں میں وطن کے لیے قربانی دینے والے فوجیوں اور قومی ہیروز کا ذکر تو بارہا آیا، مگر غیر مسلم پاکستانی سپاہیوں یا شخصیات کی نمائندگی تقریباً دکھائی نہیں دیتی۔

تحقیق کرنے والے ادارے ایکشن فار امپیکٹ کی سی ای او زرتاشہ نیازی ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”نصاب میں یہ مواد غیر مسلم بچوں کے آئینی حقوق سے متصادم اور مسلم بچوں کی سوچ محدود کرنے کے مترادف ہے۔

نصاب ایسا ہونا چاہیے جو بچوں کو ہم آہنگی، رواداری اور دوسروں کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ سمجھنے کا موقع فراہم کرے۔ اگر دوسرے مذاہب کے بارے میں معلومات ادھوری اور غلط ہوں، ان کے تہواروں کا ذکر بہت کم ہو تو ہمارے بچے تعصبات کا شکار ہو سکتے ہیں۔"

اپنی ایک کتاب کے سلسلے میں احمد اعجاز نے وفاقی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر تحقیق کی ہے۔

وہ ڈی ڈبلیو اردو سے آٹھویں کلاس کی اردو کی کتاب کے مواد پر مبنی نتائج بیان کرتے ہیں۔

ان کے بقول، ”آٹھویں جماعت کی اردو کی کتاب میں کل چھیالیس اسباق شامل ہیں، جن میں پہلے دس اسباق مکمل مذہبی نوعیت کے ہیں، جبکہ سولہ اسباق خالص مطالعہ پاکستان کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ متعدد مقامات پر موت سے ڈرانے اور انجام کی فکر پر زور ہے۔

"

فیڈرل کی آٹھویں جماعت کی اردو کی کتاب میں شامل 'پاکستان کی نامور خواتین‘ میں ایک بھی غیر مسلم خاتون کا ذکر نہیں۔

مذکورہ بالا دونوں تحقیقات میں اردو اور انگلش کی کتابوں کے مذہبی مواد کی زیادتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ اسلامیات کی کتابیں ہوں۔

نصاب میں مذہبی مواد اتنا زیادہ کیوں ہے؟

ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف نصاب ساز کمیٹیوں کے ممبر رہنے والے علی محمد خان کہتے ہیں، ”نصاب ساز کمیٹیاں اکثر بہت محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

انہیں پہلے ہی مخصوص مصنفین کے نام دے دیے جاتے ہیں کہ انہی کو شامل کرنا ہے، مثلاً شبلی نعمانی یا نسیم حجازی۔ جب مواد انہی ادیبوں سے لیا جائے گا تو ظاہر ہے ایک خاص مذہبی اور قومی بیانیہ ہی زیادہ نمایاں ہو گا۔"

ان کے بقول، ”ہمارا نصاب خصوصاً اردو، انگریزی کی کتابیں ایک طرح سے 'مغلوبہ‘ بن جاتی ہیں، جن میں قومی، ملی، مذہبی اور حتیٰ کہ سائنسی مضامین بھی ٹھونس دیے جاتے ہیں۔

حالانکہ ادب کی کتابوں میں فوک لٹریچر، لوک کہانیاں، شاعری اور ایسی تحریریں شامل ہونی چاہییں جو بچوں کے جمالیاتی احساس، تخیل اور نرم انسانی جذبات کو پروان چڑھائیں۔ یہ نرم جذبات بطور انسان ہمیں تعصبات سے پاک کرتے اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔"

بعض ماہرین کے مطابق نصاب کسی بھی معاشرے کی اجتماعی شناخت اور سماجی اقدار کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے مذہبی مواد کی موجودگی کو محض تعصب سے تعبیر کرنا درست نہیں۔

ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مذہبی اسکالر اور معلم پروفیسر طاہر اسلام عسکری کہتے ہیں، ”نصاب کا مقصد بچوں کو اپنے معاشرے، تاریخ اور تہذیبی اقدار سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ چونکہ پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی شناخت رکھتا ہے، اس لیے نصاب میں مذہبی حوالوں کی نمایاں موجودگی ایک فطری امر ہے۔ یہ مواد بچوں میں اپنی سماجی جڑوں سے وابستگی، اخلاقی تربیت اور کردار سازی میں مدد دیتا ہے۔

"

تعصب: گھر سے نصاب تک

احمد اعجاز کے مطابق، ”تعصب کا ایک سرچشمہ نصاب ہوتا ہے، جبکہ دوسرا بچے اپنے گھر، ماحول اور سماجی رویوں سے اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے اکثر ان تعصبات کو کم کرنے کے بجائے انہیں مزید مضبوط اور منظم کر دیتے ہیں۔ بہت سے اساتذہ خود محدود مطالعے کے حامل ہوتے ہیں، نصابی کتابوں کے سوا اُن کا علم اور دنیا سے رابطہ نہایت کم ہوتا ہے۔

دوسری طرف نصاب میں بار بار ایک ہی طرح کے خیالات، شناختوں اور بیانیوں کی تکرار بچوں کے ذہنوں کو مخصوص سانچوں میں ڈھال دیتی ہے۔ بچے عجیب و غریب وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً اختلافِ رائے سے خوف، دوسروں کے بارے میں بدگمانیاں، اور تنگ نظری محض خیالات نہیں رہتیں بلکہ مستقل سماجی رویوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔"

زرتاشہ نیازی کہتی ہیں، ”ہم نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر ایسی کئی تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد نصاب کو زیادہ وسیع، متوازن اور ہمہ جہت بنانا ہے۔

مثال کے طور پر جب ناظرہ اور قرآن کی تعلیم پہلے ہی لازمی قرار دی جا چکی ہے، تو اس کے ساتھ اسلامیات کے بجائے 'اخلاقیات‘ کو بطور لازمی مضمون متعارف کرایا جانا چاہیے۔ اخلاقیات ایک ایسا مضمون ہو سکتا ہے جو مختلف عقائد، معاشرتی اقدار، برداشت، احترامِ انسانیت اور باہمی ہم آہنگی جیسے پہلوؤں کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرے۔"

ماہرین کے مطابق، سوال صرف نصاب میں چند ابواب یا اسباق کا نہیں، بلکہ اس ذہنی دنیا کا ہے جو بچے اپنے ساتھ لے کر بڑے ہوتے ہیں۔ اگر اسکول ہی انہیں تنوع سے خوف اور تقسیم سکھائیں، تو پھر معاشرے میں برداشت اور ہم آہنگی کا فروغ کیسے ہو گا؟

ادارت: جاوید اختر