Live Updates

افغان طالبان رجیم کی ریاستی دہشتگردی، پوست کے خاتمے کے نام پر نہتے شہریوں کا قتل عام

پیر 11 مئی 2026 22:31

کابل/بدخشاں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 مئی2026ء) افغانستان پر قابض طالبان رجیم کی جانب سے عوام کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال اور جبر کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صوبہ بدخشاں میں پوست کی فصل کے خاتمے اور وسائل پر قبضے کے تنازع نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا، جہاں طالبان فورسز اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران نہتے شہریوں کی ہلاکتوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

افغان جریدے افغان انٹرنیشنل کے مطابق صوبہ بدخشاں کے ضلع ارگو میں وسائل پر قبضے کے تنازع پر طالبان اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے کم از کم دو شہری جاں بحق ہوگئے، جبکہ احتجاج میں شدت آنے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق طالبان رجیم نے اپنے مبینہ مظالم اور کارروائیوں کو چھپانے کے لیے بدخشاں میں موبائل سروس بھی معطل کر دی ہے، جس کے باعث علاقے سے اطلاعات کا حصول محدود ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ قابض رجیم میں افغان عوام خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔ ان کے مطابق طالبان انسدادِ منشیات کے نام پر کارروائیوں کو استعمال کرتے ہوئے مقامی آبادی کے وسائل اور اثاثوں پر قبضہ جما رہے ہیں، جس سے نہ صرف عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ منشیات کے غیرقانونی دھندے کو بھی مزید تقویت ملنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں نے بدخشاں کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں پر تشدد کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے۔
Live آپریشن غضب للحق سے متعلق تازہ ترین معلومات