Live Updates

جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے باعث ایرانی فوج ہائی الرٹ ہے

امریکی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیا جائے گا، جنگ کے بعد اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ،ہم دشمن سے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ ترجمان ایرانی فوج بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 13 مئی 2026 21:34

جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے باعث ایرانی فوج ہائی الرٹ ہے
تہران (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 13 مئی 2026ء ) ترجمان ایرانی فوج بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہم دشمن سے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ میڈیا کے مطابق ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے باعث ایرانی فوج ہائی الرٹ ہے، پاسدران انقلاب آبنائے ہرمز کے مغربی اور فوج مشرقی حصے کو کنٹرول کررہی ہے، امریکی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیا جائے گا، دشمن اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔

جنگ کے بعد اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہم دشمن سے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب امریکی خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے، جس میں لانچنگ سائٹس کی اکثریت اور زیرزمین تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے امریکی جریدے”نیویارک ٹائمز“نے ایک رپورٹ میں خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ حالیہ تجزیوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع 33 میزائل سائٹس میں سے 30 میں آپریشنل صلاحیت بحال کر لی ہے یہ وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں موبائل پلیٹ فارمز کے ذریعے میزائلوں کی نقل و حمل اور لانچنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. رپورٹ کے مطابق تجزیوں میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس ملک بھر میں پھیلے ہوئے موبائل لانچرز کا تقریباً 70 فی صد حصہ اب بھی موجود ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس میزائلوں کے اس ذخیرے کا تقریباً 70 فی صد حصہ بھی محفوظ ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی ملکیت میں تھا تخمینہ جات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے اپنی زیرزمین میزائل اسٹوریج اور لانچنگ کی تقریباً 90 فی صد تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے جو شدید بم باری کے باوجود ایرانی فوجی ڈھانچے کی استقامت اور دوبارہ تعیناتی کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے. یہ تخمینے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے لہجے کو سخت کرتے ہوئے اپنے پرانے بیان کو دوبارہ دہرایا ہے کہ تہران کے پاس اب کوئی بحری بیڑا باقی نہیں رہا اور اس کی فضائیہ تباہ ہو چکی ہے‘امریکی صدر جنگ کے آغازسے یہ بیان دن میں کئی بار دہراتے ہیں‘متعددبار انہوں نے ”ٹروتھ سوشل“پر یہ بیان دن میں ایک سے زائدمرتبہ پوسٹ کیا ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کاری ضرب لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے. ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک ایسی ترجیح ہے جو کسی بھی اندرونی معاشی تحفظات سے بالاتر ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ میں جنگ کی لاگت، افراط زر اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق دباﺅ بڑھ رہا ہے تاہم نئے انٹیلی جنس تجزیے بتاتے ہیں کہ ایران اپنی تزویراتی میزائل صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے خاص طور پر وہ جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرزمین قلعہ نما تنصیبات سے وابستہ ہیں آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی میزائل سائٹس کا پھیلاﺅتہران کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے کیونکہ اس سمندری گزرگاہ کی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات