نیدرلینڈز کےہسپتال میں ہنٹا وائرس کے خدشے پر 12 ملازمین قرنطینہ میں منتقل

منگل 12 مئی 2026 09:17

دی ہیگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) نیدرلینڈز کے ریڈ باؤڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے ہنٹا وائرس سے متاثرہ مریض کی دیکھ بھال کے دوران حفاظتی ضوابط میں کوتاہی کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر 12 ملازمین کو چھ ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق ہسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معاملہ خون کے نمونوں کو لینے اور پراسیس کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ مریض کے پیشاب کو تلف کرنے کے عمل سے متعلق ہے۔

بیان کے مطابق خون کے نمونوں کو معمول کے طریقہ کار کے تحت پراسیس کیا گیا، حالانکہ وائرس کی نوعیت کے باعث زیادہ سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے جانے چاہیے تھے۔ہسپتال نے مزید بتایا کہ ہفتے کے روز یہ بات سامنے آئی کہ مریض کے پیشاب کو تلف کرنے کے حوالے سے تازہ بین الاقوامی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

واقعے کے بعد 12 ملازمین کو احتیاطی طور پر چھ ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

اسپتال کے ایگزیکٹو بورڈ کی چیئرپرسن برٹین لاہوئس نے کہا کہ اگرچہ حقیقی انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہے، تاہم یہ اقدامات متاثرہ افراد کے لیے خاصے اہم اور حساس نوعیت کے ہیں۔واضح رہے کہ ریڈ باؤڈ میڈیکل سینٹر نے جمعرات کے روز ڈچ کروز شپ "ایم وی ہونڈیئس" سے تعلق رکھنے والے ایک ہنٹا وائرس متاثرہ مریض کو اسپتال میں داخل کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :