انمول پنکی کا براہ راست گاہکوں کو ملنے کے بجائے مخصوص مقامات کا استعمال

ملزمہ نئے کسٹمر کیلئے منشیات مخصوص مقامات پر رکھواتی، گاہک بتائی ہوئی جگہ سے حاصل کرلیتا تھا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 14 مئی 2026 13:20

انمول پنکی کا براہ راست گاہکوں کو ملنے کے بجائے مخصوص مقامات کا استعمال
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2026ء) کراچی میں منشیات برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ کے کیس میں گرفتار بدنامِ زمانہ ڈیلر انمول عرف پنکی کے طریقہ واردات اور منشیات کی ترسیل کے حوالے سے نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں تفتیشی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی، ملزمہ منشیات کی خرید و فروخت اور پیسوں کا لین دین مکمل طور پر آن لائن کرتی تھی تاکہ قانون کی گرفت سے بچ سکے۔

بتایا گیا ہے کہ نئے گاہکوں کے لیے ملزمہ کسی رائیڈر کا استعمال کرنے کے بجائے منشیات کو پہلے سے طے شدہ مخصوص مقامات پر رکھوا دیتی تھی، کسٹمر ملزمہ کی بتائی ہوئی جگہ سے خود جا کر منشیات حاصل کر لیتا تھا، جس کا مقصد اپنی شناخت چھپانا تھا، ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں اور بڑے تعلیمی اداروں میں بھی منشیات سپلائی کرتی رہی ہے، منشیات کی اس منظم ترسیل کے لیے ملزمہ کا ایک خاص گینگ کام کر رہا ہے، جس میں ایک خاتون اور 5 مرد شامل ہیں۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ نے لاہور اور کراچی میں منشیات کی تیاری کے لیے الگ الگ خفیہ لیبارٹریاں قائم کر رکھی تھیں، منشیات کی بڑی مقدار لاہور میں تیار کی جاتی تھی، جبکہ کراچی میں اس کا نیٹ ورک زیادہ متحرک تھا، ملزمہ نئی تیار ہونے والی کوکین کو سب سے پہلے خود استعمال کرکے اس کا معیار چیک کرتی تھی، جس کے بعد پیکنگ اور سپلائی شروع کی جاتی تھی۔

بتایا جارہا ہے کہ وہ اپنی تیار کردہ مہنگی ترین کوکین کو "گولڈ" کا نام دیتی تھی اور اسے خصوصی پیکنگ میں فروخت کیا جاتا تھا، چھاپے کے دوران ایسی ڈبیاں بھی ملیں جن پر انگریزی میں "کوئن میڈم پنکی ڈان" درج تھا، ملزمہ کو ریڈ وائن کا شوق تھا، جس کے لیے اس نے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کے انگور منگوا کر خود کشید کرکے وائن تیار کی تھی، تفتیش میں یہ عجیب انکشاف بھی ہوا کہ وہ روزانہ لاکھوں روپے خیرات کرتی تھی، ایک واقعے میں اس نے مبینہ طور پر ایک فقیر کو 70 لاکھ روپے تک دیئے تھے۔