- امریکہ حریف نہیں شراکت دار بنے، چینی صدر کا ٹرمپ کو مشورہ
امریکہ حریف نہیں شراکت دار بنے، چینی صدر کا ٹرمپ کو مشورہ
چینی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جمعرات 14 مئی کو بیجنگ میں ملاقات کے دوران چین کے صدر کا لہجہ ٹرمپ کے لہجے کے برعکس تھا۔ ٹرمپ نے شی کے ساتھ اس نہایت اہم سمٹ کا آغاز اپنے چینی ہم منصب کی تعریف کرتے ہوئے کیا اور کہا، ’’آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
‘‘شی کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کی جنگ، تجارتی تنازعات اور تائیوان جیسے پیچیدہ مسائل پر دونوں رہنما اب بھی ایک دوسرے سے کافی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس ملاقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کا تین روزہ دورہ چین شاید بڑی دوطرفہ کامیابیوں کے بجائے زیادہ تر رسمی تقریبات اور علامتی پہلوؤں پر مشتمل ہو گا۔
(جاری ہے)
دونوں رہنماؤں نے ’گریٹ ہال آف پیپل‘میں تقریباً دو گھنٹے بند کمرے میں ملاقات کی اور تجارت سمیت کئی امور پر گفتگو کی۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر شی نے صدر ٹرمپ سے کہا، ’’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔‘‘
ماؤ ننگ نے لکھا، ’’اگر اسے مناسب طریقے سے سنبھالا جائے تو دوطرفہ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہیں گے۔
بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں حتیٰ کہ تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے پورا تعلق شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔‘‘ٹرمپ نے شی کی تعریف کی
یہ بیان اس مختصر عوامی گفتگو کے بعد سامنے آیا جو ملاقات شروع ہونے سے پہلے ہوئی، جس میں ٹرمپ نے تعریفی جملے کہتے ہوئے شی سے کہا، ’’آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔ بعض اوقات لوگ مجھے یہ کہتے ہوئے پسند نہیں کرتے، لیکن میں پھر بھی یہ کہتا ہوں کیونکہ یہ سچ ہے۔
‘‘ڈونلڈ ٹرمپ
نے مزید کہا، ’’آپ کے ساتھ ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔ آپ کا دوست ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔‘‘ امریکی صدر نے وعدہ کیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔صدر شی نے اپنے ابتدائی کلمات میں نسبتاً زیادہ سنجیدہ انداز اختیار کیا، اور امید ظاہر کی کہ امریکہ اور چین تصادم سے بچ سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا، ’’کیا دونوں ممالک ’تُھوسیڈیڈیس ٹریپ‘ سے بالاتر ہو کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں؟’تُھوسیڈیڈیس ٹریپ‘ دراصل خارجہ پالیسی میں استعمال ہونے والی ایک معروف اصطلاح ہے، جس سے مراد یہ خیال ہے کہ جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت کسی مسلمہ طاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہے تو نتیجہ اکثر جنگ کی صورت میں نکلتا ہے۔
صدر شی نے کہا، ’’تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ محاذ آرائی نقصان دہ ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کو حریفوں کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک