وفاقی آئینی عدالت، کے پی ٹی برطرف افسر کی بحالی کے خلاف اپیل خارج

جمعرات 14 مئی 2026 19:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سابق ایچ آر منیجر انس ارباب کی بحالی کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیل کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق ایچ آر منیجر کو غیر قانونی بھرتیوں اور کرپشن کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نے بھرتیوں سے متعلق فائلیں بھی ان کے گھر سے برآمد کی تھیں۔

وکیل کے پی ٹی کے مطابق انس ارباب کے اپنے دورِ ملازمت سے متعلق اہم فائلیں بھی غائب ہیں جبکہ ان کی بھرتی 1989 میں ایڈہاک بنیاد پر ہوئی اور اگلے سال خراب کارکردگی پر انہیں برطرف کیا گیا تھا تاہم 1990 میں وزیرِ مواصلات کی مداخلت پر انہیں بحال اور مستقل کیا گیا۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو ٹرائل کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے مطابق ملزم کے خلاف باقاعدہ انکوائری نہیں ہوئی تھی، جبکہ کے پی ٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو باقاعدہ انکوائری قرار نہیں دیا جا سکتا۔جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ دوبارہ انکوائری اس لئے ممکن نہیں کہ متعلقہ افسر ریٹائر ہو چکا ہے، اور عدالت قانون سے بالاتر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی اپیل خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس میں برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پنشن اور دیگر مراعات دینے کا حکم دیا گیا تھا۔