وسطی افریقہ: ایبولا وائرس پھیلاؤ عالمی صحت عامہ کے لیے وجہ تشویش قرار

یو این پیر 18 مئی 2026 03:00

وسطی افریقہ: ایبولا وائرس پھیلاؤ عالمی صحت عامہ کے لیے وجہ تشویش قرار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمگیر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ متاثرہ مریضوں کی بڑھتی تعداد، سرحد پار وائرس کی منتقلی اور وبا کے پھیلاؤ کی وسعت سے متعلق سنگین خدشات ہیں۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک میں اس وائرس کی بُنڈی بُگیو نامی قسم سے جڑے مصدقہ اور مشتبہ کیس سامنے آئے ہیں۔

اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، تاہمعالمگیر صحت سے متعلق ادارے کے ضوابط کے تحت فی الوقت اسے عالمی وباقرار نہیں دیا جا سکتا۔

Tweet URL

16 مئی تک مشرقی کانگو کے صوبے ایتوری میں آٹھ افراد کے طبی نمونوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، 246 افراد کے جسم میں غیرمصدقہ طور پر یہ وائرس پایا گیا ہے جبکہ اب تک ایسی 80 اموات سامنے آئی ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے میں شبہ ہے کہ ان ک سبب ایبولا وائرس تھا۔

(جاری ہے)

کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں بھی اس بیماری کے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سرحد پار یوگنڈا میں دو افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو کانگو سے سفر کر کے آئے تھے۔

طبی کارکنوں کی ہلاکتیں

'ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ موجودہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ ادارے نے اس خدشے کی وجہ غیر واضح اموات کے کئی واقعات، ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں مثبت نتائج کی بلند شرح اور وائرس کی منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق محدود معلومات کو قرار دیا ہے۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ کم از کم چار طبی کارکن بھی اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جس سے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں آبادی کی مسلسل نقل و حرکت، تجارتی روابط اور انسانی بحرانوں کے باعث ہمسایہ ممالک میں بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

ہنگامی اقدامات کی ہدایت

'ڈبلیو ایچ او' نے ایبولا کے پھیلاؤ کے تناظر میں بین الاقوامی سفر یا تجارت پر کسی طرح کی پابندی عائد کرنے کی سفارش نہیں کی البتہ تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نگرانی کے نظام، ہنگامی تیاریوں اور عوامی آگاہی کے اقدامات کو مزید موثر بنائیں۔

کانگو اور یوگنڈا کی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی اقدامات کے نظام فعال کریں، مریضوں کے رابطوں کا سراغ لگانے اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کو بہتر بنائیں، طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات سخت کریں اور علاج کی سہولیات میں اضافہ کریں۔ علاوہ ازیں، عوام، مذہبی رہنماؤں اور مقامی لوگوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لینا بھی وبا پر قابو پانے کے لیے نہایت اہم ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے واضح کیا ہے کہ ایبولا وائرس کی بُنڈی بُگیو قسم کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں اس لیے تحقیق اور طبی آزمائشوں میں تیزی لانا ہو گی۔ ادارے نے مرض پر قابو پانے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے ایک ہنگامی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :