عالمی تجارت میں خلل لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتا ہے
یو این
پیر 18 مئی 2026
02:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 مئی 2026ء) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں میں آنے والی رکاوٹیں دنیا بھر میں خوراک، نقل و حمل اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس سے معاشی ترقی سست پڑ رہی ہے جبکہ غریب گھرانوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ انتباہ اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل(ایکوسوک) کے خصوصی اجلاس میں سامنے آیا ہے جس میں تیل و گیس کی عالمی منڈیوں، بحری تجارتی راستوں اور تجارتی ترسیلی نظام کو لاحق غیریقینی حالات سے نمٹنے پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر کونسل کے صدر لوک بہادر تھاپا نے مندوبین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف توانائی کا بحران نہیں بلکہ ترقی کا بحران بھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دنیا کی اجتماعی صلاحیت کا امتحان ہے کہ آیا 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے میں کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
(جاری ہے)
غربت میں اضافے کا خدشہ
ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تجارتی رکاوٹیں اور کڑے مالی حالات ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ان ممالک کے لیے مسائل کہیں بڑھ گئے ہیں جو پہلے ہی بھاری قرضوں تلے دبے ہیں اور خوراک و توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ
کے اندازوں کے مطابق، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں اب 2025 کی اوسط قیمتوں کے دو گنا سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ اگر موجودہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو کھاد کی قیمتوں میں 2026 کی پہلی ششماہی تک 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ ان اثرات کا بوجھ دنیا بھر کے گھرانوں میں مہنگی خوراک اور بڑھتے اخراجات زندگی کی صورت میں محسوس کیا جا رہا ہے۔لوک بہادر تھاپا نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی مہنگائی اور معاشی سست روی کے مشترکہ اثرات مزید 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے لے جا سکتے ہیں۔
خواتین اور نوجوانوں کی مشکلات
خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے خواتین، بچے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ممالک میں ان کے لیے مشکلات اور بھی زیادہ ہیں جہاں گھرانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہو جاتا ہے۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے اقتصادی و سماجی امور لی جنہوا نے خبردار کیا کہ توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل کی روانی میں خلل پہلے سے کمزور عالمی معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے جس سے حکومتوں کی اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
لی جنہوا نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے توانائی اور اجناس کی منڈیوں کو کھلا اور قابل پیش گوئی رکھنے، ترقی پذیر ممالک کے لیے سستے مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے اور توانائی کے مضبوط و پائیدار نظام میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سب کے لیے سستی اور قابل بھروسہ توانائی کی فراہمی سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف 7 پر تیزی سے پیش رفت کرنا ہو گی۔
چھوٹے ممالک کے بڑے مسائل
بارباڈوز کی وزیراعظم میا موٹلے نے چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک پر اس بحران کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدم استحکام کے اثرات ان معیشتوں پر سب سے زیادہ پڑتے ہیں جو درآمدی ایندھن اور خوراک پر انحصار کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کبھی صرف توانائی نہیں ہوتی بلکہ یہ دوا بھی ہے، خوراک بھی، تعلیم بھی اور روزگار بھی۔
یہ گھرانوں کے وقار اور ممالک کی خودمختاری سے جڑی ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسا بحران بحری راستوں، ایندھن کی منڈیوں اور سرکاری بجٹ کے ذریعے بہت تیزی سے عوام تک پہنچ جاتا ہے۔یہ بحران تاخیر سے پہنچنے والی دواؤں، بسوں کے مہنگے کرایوں اور دسترخوان پر خوراک کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بارباڈوز اپنی توانائی کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، جبکہ پورا خطہ غرب الہند اپنی 80 فیصد سے زیادہ خوراک بیرون ملک سے منگواتا ہے۔
چھوٹا ملک ہونے سے مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔بین الاقوامی تعاون کی ضرورت
لوک بہادر تھاپا نے عالمگیر تقسیم اور انتشار کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی بینکوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔
لی جنہوا کا کہنا تھا کہ مشترکہ اقدامات، مسلسل سرمایہ کاری اور کثیرالفریقی تعاون کے عزم کو مضبوط کیا جائے تو توانائی اور تجارتی ترسیل کے زیادہ محفوظ و مستحکم نظام اور جامع و پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
مزید اہم خبریں
-
کیا کچی بستیوں کے 1.1 ارب مکینوں کو مناسب رہائش دینا ممکن؟
-
وسطی افریقہ: ایبولا وائرس پھیلاؤ عالمی صحت عامہ کے لیے وجہ تشویش قرار
-
پاکستان: یو این ادارے کی مدد سے خضدار میں جیل اصلاحات
-
رہائش اور موسم کے بڑھتے مسائل کے درمیان باکو میں ورلڈ اربن فورم شروع
-
عالمی تجارت میں خلل لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتا ہے
-
متحدہ عرب امارات میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق
-
سندھ طاس معاہدہ، ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ، بھارت کی جانب سے پانی کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر حدود برقرار
-
سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں چاند نظر آنے کا اعلان
-
ملک میں 10ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، غیرملکی سرمایہ 218 فیصد بڑھ گیا
-
سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کے بیٹے کے گھر پر فائرنگ
-
رویت ہلال کمیٹی کا ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کا اعلان، پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی
-
ان افراد کے نام جانتاہوں، جوپنکی سے منشیات خریدتے تھے، تاہم فی الحال کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں چاہتا،سینئروزیرسندھ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.