رہائش اور موسم کے بڑھتے مسائل کے درمیان باکو میں ورلڈ اربن فورم شروع
یو این
پیر 18 مئی 2026
02:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 مئی 2026ء) بڑھتی رہائشی لاگت، موسمیاتی آفات اور جنگوں کے باعث دنیا بھر کے کروڑوں لوگ مناسب رہائش سے محروم ہیں۔ لیکن اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 17 مئی سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے 13ویں عالمی شہری فورم میں اسی مسئلے پر غور کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ
کے ادارہ مساکن (یو این ہیبیٹٹ) اور آذربائیجان کی حکومت کے اشتراک سے منعقدہ یہ فورم 22 مئی تک جاری رہے گا جس میں عالمی رہنما، دنیا بھر سے بڑے شہروں کے میئر، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین، حکومتوں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ 'دنیا کو رہائش کی فراہمی: محفوظ اور مضبوط شہر اور آبادیاں' اس فورم کا بنیادی موضوع ہے۔(جاری ہے)
اقوام متحدہ
کے مطابق، دنیا میں تقریباً 2.8 ارب لوگ نامناسب رہائشی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 30 کروڑ سے زیادہ کے پاس سرے سے کوئی گھر ہی نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک کرہ ارض کی تقریباً 70 فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہو گی جس سے یہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔یو این ہیبیٹٹ کی سربراہ اینا کلاڈیا روسبیخ نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے اس صورتحال کو عالمی رہائشی بحران قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے یہ بحران زیادہ تر جنوبی دنیا کے ممالک میں تھا لیکن اب اس کے اثرات شمالی دنیا میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی بڑا مسئلہ بن چکی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تجارتی ترسیلی نظام کو لاحق خطرات نے اس مسئلے کو مزید بگاڑ دیا ہے۔محض مکان نہیں
یہ بحران محض اینٹوں اور سیمنٹ تک محدود نہیں۔ رہائش کو اب انسانی وقار، شہری استحکام حتیٰ کہ عالمی امن و سلامتی کی بنیاد بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رہائشی مسائل کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔
صحت اور تعلیم کے نظام پر دباؤ آتا ہے، معیشت کمزور پڑتی ہے اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔اقوام متحدہ
کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی نائب ڈائریکٹر فرینسائن پک اپ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ اس فورم کے ذریعے شہری مسائل کے ایسے جامع حل ڈھونڈنے کے لیے شراکتتوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہے جن سے رہائش، موسمیاتی تحفظ، بہتر انتظام اور مقامی مالی وسائل یکجا ہو سکیں۔عالمی رہائشی بحران صرف تعمیرات کا مسئلہ نہیں ہے۔ صرف گھر بنانے سے آگے بڑھ کر پورے شہری ماحول کو دیکھنا ہو گا اور رہائش کے مسئلے کی پیچیدگی کو سمجھنا ہو گا۔
'کچی آبادیاں مسئلہ نہیں'
فورم میں غیر رسمی یا کچی آبادیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد بھی ایک اہم موضوع ہو گی۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں لوگ زمین کی قانونی ملکیت کے بغیر غیر محفوظ گھروں میں رہتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں تقریباً 1.1 ارب افراد کچی آبادیوں میں مقیم ہیں جن میں 35 تا 50 کروڑ بچے بھی شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں اس تعداد میں مزید دو ارب افراد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔'یو این ہیبیٹٹ' اس سوچ کو تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے کہ 'کچی آبادیاں مسئلہ ہیں'۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہی علاقے شہروں میں رہائش حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں۔
جنگ، تباہی اور تعمیر نو
فورم میں بحث کا ایک اور اہم موضوع یہ ہو گا کہ جنگ یا قدرتی آفات کے بعد شہروں کی بحالی کیسے کی جائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2022 کے اختتام تک دنیا بھر میں 12 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ ایسے بحرانوں کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں سے 60 فیصد سے زیادہ نے شہروں میں پناہ لی۔
اینا کلاڈیا روسبیخ کا کہنا ہے کہ گھر کھو دینا صرف چھت کھو دینا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مطلب برادریوں کا ٹوٹ جانا، روزگار کا ختم ہونا اور عدم تحفظ کا شدید احساس بھی ہے۔
باکو میں ہونے والی بات چیت کا مرکز صرف لوگوں کو پناہ دینا نہیں بلکہ زندگیوں کی بحالی بھی ہوگا، یعنی آبادیوں کی بحالی، روزگار کی فراہمی اور متاثرہ افراد کو معمول کی زندگی کی جانب واپس لانا۔موسمیاتی تبدیلی اور رہائش
فورم میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر بھی خاص توجہ دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی بحران اب عالمی رہائشی بحران کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔
2023 میں سیلاب، طوفانوں اور جنگلوں کی آگ جیسی شدید موسمیاتی آفات نے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بے گھر کیا۔ اندازہ ہے کہ 2040 تک موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں 16 کروڑ 70 لاکھ گھروں کو تباہ کر سکتی ہے۔
دوسری جانب، تعمیراتی شعبہ خود بھی ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے جو دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کے 34 فیصد کا ذمہ دار ہے۔ اس لیے فورم میں اس سوال پر بھی غور ہو گا کہ رہائش کی تعمیر میں موسمیاتی بحران کو بڑھنے سے کیسے روکا جائے۔
فورم کا ایک مرکزی پیغام یہ ہے کہ اس بحران کا حل اجتماعی کوششوں میں مضمر ہے یعنی حکومتیں، مقامی ادارے، یونیورسٹیاں، سماجی تنظیمیں اور مقامی لوگ سب مل کر کام کریں۔
نیو اربن ایجنڈا: 10 سال بعد
باکو فورم ایک اہم سیاسی سنگ میل بھی ثابت ہو گا کیونکہ امسال 2016 میں منظور کیے گئے 'نیو اربن ایجنڈا' کو 10 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
جولائی میں نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس ایجنڈے کا وسط مدتی جائزہ لے گی اور توقع ہے کہ باکو میں ہونے والی بات چیت سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ دنیا محفوظ، پائیدار اور کم خرچ شہروں کے قیام میں اب تک کتنی پیش رفت کر سکی ہے۔
ورلڈ اربن فورم کیا ہے؟
اس فورم کا قیام 2001 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ یہ فورم ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے اور اسے پائیدار شہری ترقی اور شہروں کے مستقبل سے متعلق دنیا کی اہم ترین بین الاقوامی کانفرنس سمجھا جاتا ہے۔
فورم میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی لوگوں، معیشت، بنیادی ڈھانچے اور ماحول پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔
2002 میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پہلے اجلاس کے بعد یہ فورم دنیا کے مختلف شہروں میں منعقد ہوتا آ رہا ہے۔ امسال باکو فورم میں 182 ممالک سے تقریباً 40 ہزار شرکا کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔
مزید اہم خبریں
-
کیا کچی بستیوں کے 1.1 ارب مکینوں کو مناسب رہائش دینا ممکن؟
-
وسطی افریقہ: ایبولا وائرس پھیلاؤ عالمی صحت عامہ کے لیے وجہ تشویش قرار
-
پاکستان: یو این ادارے کی مدد سے خضدار میں جیل اصلاحات
-
رہائش اور موسم کے بڑھتے مسائل کے درمیان باکو میں ورلڈ اربن فورم شروع
-
عالمی تجارت میں خلل لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتا ہے
-
متحدہ عرب امارات میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق
-
سندھ طاس معاہدہ، ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ، بھارت کی جانب سے پانی کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر حدود برقرار
-
سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں چاند نظر آنے کا اعلان
-
ملک میں 10ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، غیرملکی سرمایہ 218 فیصد بڑھ گیا
-
سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کے بیٹے کے گھر پر فائرنگ
-
رویت ہلال کمیٹی کا ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کا اعلان، پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی
-
ان افراد کے نام جانتاہوں، جوپنکی سے منشیات خریدتے تھے، تاہم فی الحال کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں چاہتا،سینئروزیرسندھ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.