کیا کچی بستیوں کے 1.1 ارب مکینوں کو مناسب رہائش دینا ممکن؟

یو این پیر 18 مئی 2026 04:15

کیا کچی بستیوں کے 1.1 ارب مکینوں کو مناسب رہائش دینا ممکن؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 مئی 2026ء) آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کے 13ویں 'عالمی شہری فورم' میں شہروں کو زیادہ محفوظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مزید مضبوط بنانے اور رہائش کو تمام لوگوں کی پہنچ میں لانے کے طریقوں پر بات چیت جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ مساکن 'یو این ہیبیٹٹ' اور آزربائیجانی حکومت کے اشتراک سے منعقدہ اس فورم میں دنیا بھر سے وزرا، شہروں کے میئر، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے، شہری منصوبہ ساز اور تعمیراتی ماہرین دنیا کو درپیش رہائشی بحران پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو تقریباً 2.8 ارب افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

Tweet URL

گزشتہ دہائی میں کئی ممالک نے اس بھران سے نمٹنے کے معاملے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

(جاری ہے)

تقریباً 160 ممالک قومی شہری پالیسیاں اختیار کر چکے ہیں یا ان پر کام کر رہے ہیں جبکہ دو تہائی سے زیادہ ممالک نے کم لاگت والے رہائشی پروگرام متعارف کرائے ہیں۔

'یو این ہبیٹٹ' کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ دنیا بھر میں 1.1 ارب سے زیادہ لوگ کچی آبادیوں یا غیر رسمی بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ 10 برس میں 12 کروڑ سے زیادہ لوگ یا تو ایسی بستیوں میں پیدا ہوئے یا وہاں منتقل ہوئے۔

شہروں کی بحالی کا مسئلہ

ہفتہ بھر جاری رہنے والے اس فورم کے افتتاحی اجلاسوں میں کم لاگت والی سرکاری رہائش گاہوں، کچی آبادیوں کو بہتر بنانے اور کمزور طبقات کے تحفظ جیسے امور زیر بحث آئے۔

اس حوالے سے ان ممالک پر خصوصی توجہ دی گئی جو جنگ اور تباہی کے بعد بحالی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ کئی برس تک جنگ سے بری طرح متاثر ہونے والے شام کے شہر حمص کے میئر بشار السباعی کہتے ہیں کہ ان کے شہر کو صرف مشوروں اور مہارت کی نہیں بلکہ سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری مالی امداد کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے فورم کے موقع پر یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد چار لاکھ لوگ حمص میں واپس آئے مگر ان کے محلے اور گھر تباہ حال تھے جہاں ٹھوس کچرے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور بجلی کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنا آسان نہیں۔

UN-Habitat آذربائیجان کے دارالحکومت باکو ورلڈ اربن فورم کا باقاعدہ آغاز اقوام متحدہ کا جھنڈا لہرا کر کیا گیا۔

موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات

غیر محفوظ جگہوں پر رہنے والے لاکھوں لوگ سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمی آفات سے فوری متاثر ہوتے ہیں اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا موسمیاتی بحران بھی ان خطرات کو بڑھا رہا ہے۔

تعمیراتی شعبہ دنیا میں گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے بڑے ذرائع میں شامل ہے اسی لیے کم کاربن خارج کرنے والی تعمیرات، موسمیاتی اعتبار سے مضبوط شہری منصوبہ بندی اور کچی آبادیوں کی ماحول دوست بہتری بھی فورم کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

فورم کے پہلے ہی دن باکو میں مسلسل موسلادھار بارش ہوئی جس کے باعث شہری انتظامیہ کو سڑکوں سے پانی نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے تک آذربائیجان میں خاص طور پر سال کے اس حصے میں ایسا موسم بہت کم دیکھنے میں آتا تھا۔

UN News یو این ہیبیٹٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایناکلاوڈیا روزباخ باکو میں ورلڈ اربن فورم کے اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔

وسیع تر بحران

امریکی ماہرین تعمیرات اور 'کنسورشیم برائے پائیدار شہر کاری' نامی ادارے کے بانی لانس جے براؤن نے یو این نیوز کو بتایا کہ جب امریکا جیسے امیر ملک میں بھی لاکھوں لوگ بے گھر ہوں تو اسے واضح طور پر بحران کہا جائے گا۔ نیویارک میں اس وقت صورتحال واقعی بحرانی نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس شہر کی آبادی میں چار گنا اضافہ خود دیکھ چکے ہیں جہاں کم آمدنی والے طبقات کے لیے سستی رہائش کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ باکو میں ہونے والی بات چیت اور فیصلے رہائش کے عالمی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔