ان افراد کے نام جانتاہوں، جوپنکی سے منشیات خریدتے تھے، تاہم فی الحال کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں چاہتا،سینئروزیرسندھ

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پنکی زہر بیچتی تھی اور ایسے عناصر کو کسی صورت گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے،شرجیل میمن

اتوار 17 مئی 2026 21:00

ان افراد کے نام جانتاہوں، جوپنکی سے منشیات خریدتے تھے، تاہم فی الحال ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ان افراد کے نام جانتے ہیں، جوپنکی سے منشیات خریدتے تھے، تاہم فی الحال کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں چاہتے، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، منشیات پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں اور نوجوان نسل تیزی سے اس لعنت کی لپیٹ میں آ رہی ہے، اس لیے منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور موثر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

اتوارکو بی آرٹی ریڈ لائن کے دورے کے موقع پر شرجیل میمن نے منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنکی زہر بیچتی تھی اور ایسے عناصر کو کسی صورت گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے کاروبار کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی اور مثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، حالانکہ یہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے متحرک ہیں اور جلد اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ انمول عرف پنکی منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی میں ملوث تھی اور اس وقت قانون کی گرفت میں ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس بات پر توجہ دیں کہ نوجوان اپنا پیسہ کہاں خرچ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی گھر کا فرد نشے کا عادی ہو تو فوری طور پر اس کا علاج کرایا جائے کیونکہ نشے کے عادی افراد معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بن جاتے ہیں۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اسکولوں میں طلبہ کے اچانک منشیات ٹیسٹ کرانے کی تجویز بھی زیر غور رہی ہے، جسے صوبائی اسمبلی میں مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بحالی مراکز کے قیام اور علاج کی سہولیات بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے، کیونکہ نجی اداروں میں علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف ہر ادارے کا اپنا کردار ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے تمام منشیات فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دینا ضروری ہے۔