مشرقِ وسطی کی ایئرلائنز کے مسافروں میں 46 فیصد کمی

خطے میں جاری تنازعات نے سفری ذرائع کو متاثر کیا ،آئی اے ٹی اے رپورٹ

پیر 1 جون 2026 19:10

مشرقِ وسطی کی ایئرلائنز کے مسافروں میں 46 فیصد کمی
مونٹریال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 جون2026ء) مشرقِ وسطی کی ایئر لائن کمپنیوں نے اپریل کے دوران مسافروں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے، جس کے باعث عالمی فضائی ٹریفک میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ خطے میں جاری تنازعات نے سفری ذرائع کو متاثر کیا ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی تازہ ترین مسافر ٹریفک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطی میں اگر یہ شدید گراوٹ نہ آتی تو عالمی طلب مثبت رہتی۔

اس خطے میں ایئر لائنز کو آپریشنل رکاوٹوں، کمزور سفری طلب اور تنازعی کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ خطے میں جنگ کے باعث مشرقِ وسطی کی ایئر لائن کمپنیوں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی اس قدر شدید تھی کہ اس نے عالمی طلب کو مجموعی طور پر منفی 3.4 فیصد تک کم کیا۔

(جاری ہے)

ولی والش نے خبردار کیا کہ حالات اب بھی غیر یقینی ہیں، کیونکہ ایئر لائن کمپنیوں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور کمزور طلب کا سامنا ہے۔

پیشگی بکنگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں آنے والے مہینوں میں اپنے شیڈول کم کر رہی ہیں تاکہ اخراجات اور مارکیٹ کے حالات میں توازن قائم رکھا جا سکے۔اپریل میں مشرقِ وسطی کی ایئر لائن کمپنیوں نے تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی۔ مسافروں کی مجموعی طلب میں سال بہ سال 46.6 فیصد جبکہ بین الاقوامی ٹریفک میں 48.1 فیصد کمی آئی، جبکہ استعداد بھی نمایاں طور پر گھٹ گئی۔

یہ کمی اگرچہ مارچ کے مقابلے میں کچھ کم تھی، لیکن علاقائی فضائی نیٹ ورکس میں خلل کے باعث فضائی ٹریفک شدید متاثر رہی۔ریور پرائم کے ریسرچ اینڈ اینالیسز ڈیپارٹمنٹ کی منیجر عسیل الارنکی نے عرب نیوز کو بتایا کہ مشرقِ وسطی کی جنگ اب صرف مقامی ایئر لائن کمپنیوں تک محدود بحران نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ہوا بازی کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ان کے مطابق اس کے اثرات صرف ایئر لائن کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں تک پھیل چکے ہیں، جو سب مشرقِ وسطی کی بڑے پیمانے پر فضائی رابطہ کاری پر انحصار کرتے ہیں۔