پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان الیکشن میں پنجاب پولیس کی تعیناتی مسترد کردی

گلگت بلتستان ایک انتہائی حساس اور نازک خطہ ہے، پنجاب پولیس کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ یہ گلگت بلتستان ہے، یہاں پنجاب والا رویہ اور طور طریقے ہرگز نہیں چل سکتے؛ سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن کا بیان

Sajid Ali ساجد علی بدھ 3 جون 2026 14:02

پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان الیکشن میں پنجاب پولیس کی تعیناتی مسترد ..
گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے خاص طور پر پنجاب پولیس کی وہاں تعیناتی اور وفاقی و صوبائی وزراء کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ندیم افضل چن نے گلگت بلتستان میں پنجاب کی پولیس فورس منگوانے کے فیصلے کو ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا، انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی وہاں موجودگی کے بعد کیا گلگت بلتستان میں شفاف اور منصفانہ الیکشن ہو سکے گا؟ یہ آج ہر شہری کا سوال ہے، پنجاب پولیس کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ یہ گلگت بلتستان ہے، یہاں پنجاب والا رویہ اور طور طریقے ہرگز نہیں چل سکتے۔

(جاری ہے)

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے یاد دلایا کہ گلگت بلتستان ایک انتہائی حساس اور نازک خطہ ہے، اس لیے وہاں کی مقامی عوام کے ساتھ انتہائی احترام اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے، ایک بار الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد وزراء کو الیکشن مہم میں حصہ لینے کے لیے این او سی کیسے جاری کیا جا سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن بتائے کہ وفاقی اور صوبائی وزراء کس قانون کے تحت مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں کھلم کھلا حصہ لے رہے ہیں؟ اور انہیں وہاں بڑے جلسے جلوس منعقد کرنے کی اجازت کس بنیاد پر دی جا رہی ہے؟۔

اپنے بیان کے آخر میں ندیم افضل چن نے تمام متعلقہ اداروں اور الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے پورے انتخابی عمل کو ہر قسم کی مداخلت سے پاک، مکمل شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار بنایا جائے تاکہ وہاں کے غیور عوام کے ووٹ کے حقیقی احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔