بلوچستان ہائی کورٹ نے محمود خان اچکزئی کی ایف آئی آر معطل کر دی

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

جمعرات 4 جون 2026 18:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2026ء) بلوچستان ہائی کورٹ نے محمود خان اچکزئی کی ایف آئی آر معطل کر دی۔بلوچستان ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر و رکنِ قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی آر سے متعلق تمام کارروائی اگلی سماعت تک معطل کر دی ہے۔عدالت نے اسٹیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران ملاخیل ریمارکس دیے کہ درخواست گزار رکنِ قومی اسمبلی ہیں اور انہیں پارلیمانی استثنی حاصل ہے، پھر انہوں نے پارلیمنٹ کی بجائے براہِ راست ہائی کورٹ کیوں رجوع کیا چیف جسٹس کامران ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار ٹرائل کورٹ سے بھی رجوع کر سکتے تھے، پھر سیدھا ہائی کورٹ کیوں آئی کیا یہ معاملہ پارلیمانی سطح پر اٹھایا جا سکتا تھا۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے وکلا نے عدالت میں درخواست کے مختلف پہلوں پر تفصیلی دلائل دیے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ ایف آئی آر سیاسی انتقام کی بنیاد پر درج کی گئی ہے اور اس میں قانونی سقم موجود ہیں۔وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی آر کو خارج کیا جائے یا کم از کم کارروائی روک دی جائے۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسٹیٹ کو نوٹس جاری کر دیا اور ایف آئی آر سے متعلق تمام کارروائی اگلی سماعت تک معطل رکھنے کا حکم دے دیا، کیس کی اگلی سماعت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔