مجتبیٰ شجاع الرحمن کی زیر صدارت کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور قانون سازی و نجکاری کا اجلاس

صوبائی وزیر کمیونیکیشن اینڈ ورکس ملک صہیب احمد بھرت، وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری ،متعلقہ محکموں کے اعلی حکام کی شرکت اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے اہم قانونی اور انتظامی اموربارے 8سے زائد سفارشات کی منظوری دی گئی

منگل 9 جون 2026 20:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جون2026ء) وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کی زیر صدارت کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور قانون سازی و نجکاری کا 36واں اجلاس سول سیکرٹریٹ دربار ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ملک صہیب احمد بھرت، صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری اور متعلقہ محکموں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے اہم قانونی اور انتظامی اموربارے 8سے زائد سفارشات کی منظوری دی گئی۔ جن میں نادرا اور محکمہ داخلہ پنجاب کے مابین معاہدے کی مدت میں توسیع ،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور ایکوا کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)کی تیاری، پنجاب پرائیویٹ ہاسنگ سکیمز رولز 2022،پنجاب لیگل ایڈ رولز 2025اور پنجاب کریمنل پروسیکیوشن سروس رولز 2007میں مجوزہ ترامیم اور پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ سکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2025کی تیاری شامل تھی ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں گجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اربن ڈویلپمنٹ یونٹ کے اشتراک سے میٹیریل ٹیسٹنگ لیب کے قیام کے لیے ایگریمنٹ کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ صوبے کی نوجوان آبادی کو موثر اور پیداواری ورک فورس میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ملازمتوں کی کمی سے زیادہ موزوں اور تربیت یافتہ افراد کا فقدان ہے، جس سے نمٹنے کے لیے رسمی تعلیم کے ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کا فروغ بھی ناگزیر ہے ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کا قیام ایک انتہائی ویژنری اقدام ہے، جس کا مقصد عالمی معیار کی افرادی قوت تیار کرنا اور نوجوانوں کو بین الاقوامی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے ادارے کے تحت تمام سکلز ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹس کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ سکلز ڈویلپمنٹ کے لیے فراہم کردہ وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپنیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تحت فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ تیار ورک فورس کی قومی اور بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی میں بھی معاونت مہیا کی جائے گی ۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ مقامی معیشت، روزگار اور زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور غربت و بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب تمام سرکاری محکموں میں جامع اصلاحات متعارف کروا رہی ہیں تاکہ اداروں کی کارکردگی اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں نئی بھرتیاں خالصتا میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی اور ترقی کا معیا باری نہیں بلکہ کارکردگی ہونا چاہیے ۔ کام نا کرنے والے ملازمین ترقی کے مستحق نہیں ۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لیگل ایڈ ایجنسی کے قیام کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کو قانونی تحفظ اور انصاف تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہے۔

ایجنسی کے تحت وکلا کی کارکردگی کا جائزہ عدالتوں میں حاضری کی بجائے ان کے دلائل کے معیار اور مقدمات میں موثر نمائندگی کی بنیاد پر لیا جائے ۔ وزیر اطلاعات و ثقافت نے محکمہ سوشل ویلفیئر سمیت دیگر فلاحی اداروں کے تحت سکلز ڈویلپمنٹ سے متعلقہ سرگرمیوں کو بھی سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپنیورشپ ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلاحی اداروں میں زیر تربیت بے سہارا خواتین جدید تقاضوں سے ہم آہنگی انہیں حقیقی معنوں میں خود کفیل بنائے گی۔