مصدق عادل اور سعداللہ تانترے کی جدوجہد، کل جماعتی حریت کانفرنس کاقربانیوں اور استقامت کو شاندار خراجِ عقیدت

بدھ 10 جون 2026 15:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جون2026ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے اسلام آباد دفتر میں کنوینر غلام محمد صفی کی صدارت میں منعقدہ تقریب میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ممتاز رہنماؤں مرحوم مصدق عادل اور سعداللہ تانترے کی برسی کے موقع پر ان کی تاریخی جدوجہد، بے مثال قربانیوں اور قومی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

یہاں جاری بیان کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مصدق عادل اور سعداللہ تانترے نے اپنی پوری زندگی تحریکِ آزادیٔ کشمیر، حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی زندگی عزم، استقامت، ایثار اور نظریاتی وابستگی کی روشن مثال ہے جو تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ مصدق عادل ایک نڈر، بااصول اور باوقار حریت رہنما تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے قومی مؤقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا پورا خانوادہ کئی دہائیوں سے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ساتھ وابستہ رہا اور اس خاندان نے بے شمار مصائب، آزمائشوں اور قربانیوں کے باوجود آزادی کے مشن سے اپنی وابستگی برقرار رکھی۔شرکاء نے اس موقع پر مصدق عادل کے خاندان کی قربانیوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد گرامی نے تحریک کے ابتدائی مراحل میں فکری اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی جبکہ خاندان کے دیگر افراد نے بھی تحریک کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مقررین نے 1990ء کی دہائی میں ان کے چھوٹے بھائی خورشید عادل کی جبری گمشدگی کو کشمیر کے المناک انسانی المیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے گمشدہ بیٹے کی واپسی کے منتظر رہے۔تقریب میں مرحوم حریت رہنما سعداللہ تانترے کی غیر معمولی خدمات اور قربانیوں کو بھی تفصیل سے یاد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ سعداللہ تانترے جموں خطے میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ایک ثابت قدم، مخلص اور بے باک کارکن تھے جنہوں نے انتہائی دشوار اور نامساعد حالات میں آزادی کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔

انہوں نے جموں ریجن میں شدید دباؤ، ریاستی جبر اور محدود وسائل کے باوجود تحریکِ آزادی کو زندہ رکھنے اور منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مقررین نے کہا کہ سعداللہ تانترے کی زندگی قربانیوں سے عبارت تھی۔ تحریک کے دوران ان کی ایک آنکھ ضائع ہوئی، مگر اس کے باوجود ان کے حوصلے، عزم اور جدوجہد میں کوئی کمی نہ آئی۔ ان کے خاندان نے بھی تحریکِ آزادی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں اور ان کے ایک صاحبزادے نے بھی اپنی جان قربان کی۔

مقررین نے کہا کہ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعداللہ تانترے اور ان کا خاندان تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے مقصد کے ساتھ مکمل اخلاص اور وابستگی رکھتا تھا۔شرکاء نے کہا کہ سعداللہ تانترے نے جموں ریجن میں دعوتی، فکری اور تنظیمی سرگرمیوں کو انتہائی مشکل حالات میں نہایت خلوص، محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ تحریک کی آبیاری اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے وقف رکھا اور بالآخر اسی جدوجہد کے راستے میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔

حریت رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ مصدق عادل اور سعداللہ تانترے ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جنہیں نہ قید و بند کی صعوبتیں مرعوب کر سکیں، نہ ظلم و جبر ان کے حوصلے پست کر سکا اور نہ ہی سیاسی دباؤ انہیں اپنے اصولی مؤقف سے ہٹا سکا۔ انہوں نے ہر آزمائش کا استقامت، صبر اور عزم کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنی پوری زندگی حق و انصاف کی جدوجہد کے لیے وقف رکھی۔

کنوینئر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران مسئلۂ کشمیر کو ہر سفارتی، سیاسی اور بین الاقوامی فورم پر مستقل مزاجی اور اصولی مؤقف کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی اس مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کی حکومت، عوام اور ریاستی اداروں کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشکل ترین علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے باوجود پاکستان نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی اور مسئلۂ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کو اپنا مضبوط سفارتی اور اخلاقی پشتبان سمجھتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ حمایت مستقبل میں بھی اسی عزم اور استقلال کے ساتھ جاری رہے گی۔

غلام محمد صفی نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے حکومتِ پاکستان، آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندہ حلقوں پر زور دیا کہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم، باہمی احترام اور تعمیری مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ عوامی مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ باہمی اعتماد، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلۂ کشمیر کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے کردار کو ایک ہی پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ان کے جائز حقوق کی وکالت کرتا رہا ہےجبکہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت، جبر اور سخت گیر پالیسیوں کا سہارا لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گرفتاریوں، سیاسی پابندیوں اور بنیادی آزادیوں پر قدغنوں کے متعدد واقعات عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں دستاویزی شکل میں سامنے آ چکے ہیں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کو اپنا سیاسی، سفارتی اور اخلاقی پشتبان سمجھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت اور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر عوامی نمائندہ حلقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن، جمہوری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو برقرار رکھیں اور ایسے حالات پیدا ہونے سے گریز کریں جو قومی مفاد، عوامی ہم آہنگی یا کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔کنوینئر حریت کانفرنس نے کہا کہ موجودہ حالات اتحاد، بصیرت اور مشترکہ قومی ذمہ داری کے متقاضی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو یا کشمیر کاز کے مخالف عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی، سیاسی دانشمندی، برداشت اور باہمی تعاون ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عوامی مسائل کے حل اور کشمیر کاز کے مؤثر دفاع کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے شہداء، اسیران اور قربانیاں پیش کرنے والے خانوادوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرامن، اصولی، سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر مرحوم رہنماؤں کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔

شرکاء نے اس عہد کا بھی اعادہ کیا کہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جائے گا تاکہ آزادی، انصاف اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد مزید مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔تقریب میں سنیرحریت رہنما محمد فاروق رحمانی ،محمود احمد ساغر، میر طاہر مسعود سکریٹری جنرل پرویز احمد ، حسن البنا،میڈم شمیم شال،محمد رفیق ڈار،شیخ عبد المتین ،شیخ محمد یعقوب ،داود خان،جاوید بٹ ،نثارمرزا ،اعجازرحمانی ،حاجی محمد سلطان ،میاں مظفر،زاہد صفی،امتیاز وانی،شیخ عبد الماجد ،محمد شفیع ڈار ،سید گلشن،منظور احمد ڈار،نذیر کرناہی، زاہد مجتبیٰ ، اویس بلال ،ریئس میر،قاضی عمران،امتیاز بٹ،عبدالرشید بٹ، اور سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ شامل تھے۔