ملک میں غیر موثر آبپاشی طریقوں کے باعث ہر سال 50ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوتا ہے،ماہرین
پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے زرعی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے،ڈاکٹر مبین الدین احمد
جمعرات 11 جون 2026 12:18
(جاری ہے)
ڈائریکٹر زرعی پالیسی پروفیسر ڈاکٹر ایم آصف کامران نے کہا کہ قومی سطح پر پانی کے حوالے سے بحث زیادہ تر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ اصل مسئلہ اور اس کا حل فارم کی سطح پر موجود ہے جہاں آبپاشی کی کارکردگی تقریبا 50 فیصد ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے آبی مسائل صرف انفراسٹرکچر کی ترقی سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ فارم سطح پر مداخلت، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، موثر قیمتوں کے نظام، پائیدار زیر زمین پانی کے انتظام اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ آسٹریلیا سی ایس آئی آر او کے ڈاکٹر مبین الدین احمد، سروسز سکین کے ڈاکٹر آصف، انجینئر مشتاق احمد گل، انجینئر کاشف منظور، ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن، ایجوکیشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر بابر شہباز، ڈاکٹر نعیم صدیقی، ڈاکٹر ذوالفقار احمد ثاقب اور ڈاکٹر رضا اللہ سمیت پوسٹ گریجویٹ طلبہ نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر مبین الدین احمد نے زیر زمین پانی کے پائیدار استعمال کی حد مقرر کرنے، پانی کے حساب کتاب کے نظام کو بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں مستقبل میں دستیاب پانی کے مطابق فصلوں کے انتخاب کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے زرعی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کے آبی حکمرانی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سطحی اور زیر زمین پانی کے استعمال کی حد مقرر کر کے طویل المدتی پائیداری حاصل کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر آصف نے آبپاشی سے متعلق مشاورتی خدمات، موسمیاتی معلوماتی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی حکمت عملیوں کی اہمیت اجاگر کی۔ انجینئر کاشف منظور نے مٹی میں نمی ناپنے والے سینسرز اور آبپاشی شیڈولنگ ٹولز کے استعمال سے متعلق منصوبوں سے آگاہ کیا جن کے ذریعے کسان بہتر فیصلے کر کے پانی کے ضیاع کو کم کر سکتے ہیں۔ انجینئر مشتاق احمد گل نے کراپ پر ڈراپ، کیش پر ڈراپ اور جاب پر ڈراپ کے تصورات پر روشنی ڈالتے ہوئے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ صرف پانی کی پیداواری صلاحیت ہی نہیں بلکہ دیہی روزگار اور معاشی مواقع کو بھی ترجیح دیں۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی نے زمین کی سیم و تھور، پانی جمع ہونے اور زیر زمین پانی کے معیار میں مسلسل خرابی جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ہیکٹر زرعی اراضی ان مسائل سے متاثر ہے جس کے حل کے لیے بہتر نکاسی آب، زیر زمین پانی کے پائیدار استعمال اور کسانوں کی فعال شمولیت ضروری ہے۔ ڈائریکٹر ایکسٹینشن پروفیسر ڈاکٹر بابر شہباز نے موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر طویل المدتی اور پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔مزید اہم خبریں
-
لائیو اسٹریمنگ کے دوران فحاشی اور عریانیت میں ملوث انٹرنیشنل گینگ گرفتار
-
بندوق سے آواز دبانے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو حالات مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہوسکتے ہیں، سہیل آفریدی
-
اقتصادی سروے 26-2025، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، شرح نمو 3.7 فیصد رہی
-
سید مصطفی کمال سے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے وفد کی ملاقات، صحت بارے تحقیق نظام مضبوط بنانے اور دیگر اقدامات کا جائزہ لیا
-
اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کو معطل کر دیا
-
25 لاکھ مہاجرین کشمیر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،وزیر دفاع
-
وزیراعلیٰ پنجاب کا گرمی کے پیش نظر عوام کیلئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنے کا حکم
-
بھارت پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دے گا، بھارتی وزیرِ آبی وسائل کی دھمکی
-
نیا اقتصادی سروے پیش؛ مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، وزیرخزانہ
-
یو اے ای: سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار پاکستانی بے دخل
-
ہیلتھ کیئر نیشنل سکیورٹی ایشو ہے، ہم ہر بیماری میں نمبر ون بننے جارہے ہیں،مصطفی کمال
-
شہبازشریف کی جانب سے ہتک عزت کا کیس،سپریم کورٹ نے عمران خان حق دفاع بحال کردیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.