وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کردی

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ریسٹورنٹ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کردی گئی، کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 11 جون 2026 12:48

وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مارگلہ ہلز پر واقع مشہورِ زمانہ مونال ریسٹورنٹ کو بند اور مسمار کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت میں سماعت ہوئی، جہاں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت ججز اور وکلاء کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے کو ملا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی نظرثانی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریسٹورنٹ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر سخت حیرت اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ "سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جانوروں کے تو حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں؟ مونال کی لیز کی تجدید کا کیس سول کورٹ میں جبکہ کچھ دیگر ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں ہائیکورٹ میں زیرِ التواء تھیں، لیکن سپریم کورٹ نے ایک ہی فیصلے سے تمام عدالتوں کے زیرِ التواء کیسز نمٹانے کا حکم دے دیا"۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے متعلقہ فریقین کو نہ سنے جانے پر وکلاء کی خاموشی پر سوال اٹھایا کہ "متعلقہ فریقین کو سنے بغیر فیصلہ دینے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ وہاں تمام وکیل کیوں گونگے ہو گئے تھے؟"، اس پر مونال ریسٹورنٹ کے وکیل احسن بھون نے جواب دیا کہ "ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے"، جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ "وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں! سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں کوئی ٹھوس نکتہ اٹھایا ہی نہیں گیا"۔

سماعت کے دوران ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کردی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ "وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024ء میں آ چکا ہے، تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے"، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وکلاء کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا، وہ محض اتفاقِ رائے سے ختم نہیں ہو سکتا، عدالتی حکم واپس لینے کے لیے ہمیں تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا"۔

اس موقع پر جسٹس حسن رضوی نے واضح کیا کہ "آئینی عدالت قانون کے مطابق چلے گی اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی، آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں؟ ہم سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے"، بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو تفصیلی سننے کے لیے کیس کی مزید سماعت جولائی 2026ء کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔