وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کردی
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ریسٹورنٹ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کردی گئی، کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی
ساجد علی
جمعرات 11 جون 2026
12:48
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر سخت حیرت اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ "سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جانوروں کے تو حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں؟ مونال کی لیز کی تجدید کا کیس سول کورٹ میں جبکہ کچھ دیگر ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں ہائیکورٹ میں زیرِ التواء تھیں، لیکن سپریم کورٹ نے ایک ہی فیصلے سے تمام عدالتوں کے زیرِ التواء کیسز نمٹانے کا حکم دے دیا"۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے متعلقہ فریقین کو نہ سنے جانے پر وکلاء کی خاموشی پر سوال اٹھایا کہ "متعلقہ فریقین کو سنے بغیر فیصلہ دینے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ وہاں تمام وکیل کیوں گونگے ہو گئے تھے؟"، اس پر مونال ریسٹورنٹ کے وکیل احسن بھون نے جواب دیا کہ "ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں کھڑے تھے"، جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ "وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں! سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں کوئی ٹھوس نکتہ اٹھایا ہی نہیں گیا"۔ سماعت کے دوران ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کردی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ "وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024ء میں آ چکا ہے، تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے"، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وکلاء کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا، وہ محض اتفاقِ رائے سے ختم نہیں ہو سکتا، عدالتی حکم واپس لینے کے لیے ہمیں تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا"۔ اس موقع پر جسٹس حسن رضوی نے واضح کیا کہ "آئینی عدالت قانون کے مطابق چلے گی اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی، آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں؟ ہم سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے"، بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو تفصیلی سننے کے لیے کیس کی مزید سماعت جولائی 2026ء کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
وزیراعظم سے غلام احمد بلور کی ملاقات، ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور دلچسپی کے دیگر امور بارے گفتگو کی
-
مصطفی کمال سے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے وفد کی ملاقات، صحت بارے تحقیق نظام مضبوط بنانے اور دیگر اقدامات کا جائزہ لیا
-
اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو، خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال
-
وزیر تجارت کی پاکستان ٹوبیکو کمپنی کو ٹیکسیشن اور نفاذ کے حوالے سے تجاویز باضابطہ طور پر پیش کرنے کی دعوت
-
اسحق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو، علاقائی صورتحال بارے تبادلہ خیال
-
وزیراعظم سے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا
-
موسمیاتی تبدیلی کو سوشل میڈیا پر وائرل مواد کی طرح مقبول ہونا چاہیے، عطاء اللہ تارڑ
-
پی ٹی آئی کے اقبال آفریدی کی رواں اجلاس کیلئے رکنیت معطل، سپیکر کا ایوان سے باہر نکالنے کا حکم
-
نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور میرٹ کی بنیاد پر مواقع دے کر پاکستان کو عالمی قیادت کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے، رانا مشہود
-
قرض کے بدلے بیوی کو دوسرے مرد کے پاس بھیجنے والے شوہر کی ضمانت منظور
-
اہم وزارتوں اور آئینی بلڈنگ کے باہر سرکاری بجلی پر پرائیوٹ گاڑیاں چارج کرنے کا اسکینڈل بے نقاب
-
وفاقی وزیر تجارت کی پاکستان ٹوبیکو کمپنی کو ٹیکسیشن اور نفاذ کے حوالے سے تجاویز باضابطہ طور پر پیش کرنے کی دعوت
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.