A 50 ڈگری گرمی، بجلی غائب، پانی ناپید! جیکب آباد میں عوام زندہ درگور،جیکب آباد میں کربلا کا منظر، سورج آگ برسانے لگا، پانی اور بجلی نے شہریوں کو بے حال کر دیا

جمعرات 11 جون 2026 19:55

sجیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جون2026ء) 50 ڈگری گرمی، بجلی غائب، پانی ناپید! جیکب آباد میں عوام زندہ درگور،جیکب آباد میں کربلا کا منظر، سورج آگ برسانے لگا، پانی اور بجلی نے شہریوں کو بے حال کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ملک کے گرم ترین شہروں میں شمار ہونے والے جیکب آباد میں سورج سوا نیزے پر آ گیا، درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گرمی کی شدت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جانے لگی۔

جھلسا دینے والی گرمی نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ بازار، سڑکیں اور عوامی مقامات سنسان دکھائی دینے لگے ہیں۔شدید گرمی کے باوجود سیپکو حکام نے اپنی روش تبدیل نہ کی۔ اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ غیر اعلانیہ اور بلاجواز لوڈشیڈنگ اور بار بار ٹرپنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

بجلی کی بندش نے گھروں، کاروبار اور روزمرہ زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے جبکہ گرمی سے نڈھال شہری راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب جیکب آباد کے شہری گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بلدیہ شہریوں کو پانی فراہم کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں پانی کی عدم دستیابی نے شہر میں کربلا کا منظر پیدا کر دیا ہے، مگر متعلقہ حکام مسئلے کے حل کے بجائے نت نئے بہانے تراشنے میں مصروف ہیں۔

شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ واٹر سپلائی منصوبے کو چلانے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے ماہانہ ملنے والی تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی گرانٹ کے باوجود پانی کی فراہمی معطل ہے۔ عوامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پانی بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے بجائے فنڈز کی بچت کے نام پر مبینہ طور پر رقم ٹھکانے لگانے کا کھیل جاری ہے جبکہ شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔

شہریوں، سماجی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری، وزیر توانائی اور وزیر بلدیات سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیکب آباد کے عوام کو شدید گرمی میں بجلی اور پانی دونوں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا کھلی نااہلی اور عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، پانی کی فوری فراہمی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا شفاف آڈٹ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔