Live Updates

متحدہ عرب امارات سے بے دخل کیے گئے پاکستانیوں کو امارات سے اپنے سامان کی واپسی کیلئے سہولت فراہم کرنے کا اعلان

پاکستانی حکومت کی جانب سے متاثرہ پاکستانیوں کو اپنے سامان کی واپسی کیلئے پاکستانی سفارتی مشن سے رابطہ کرنے کی ہدایت

muhammad ali محمد علی جمعرات 11 جون 2026 21:12

متحدہ عرب امارات سے بے دخل کیے گئے پاکستانیوں کو امارات سے اپنے سامان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) متحدہ عرب امارات سے بے دخل کیے گئے پاکستانیوں کو امارات سے اپنے سامان کی واپسی کیلئے سہولت فراہم کرنے کا اعلان، پاکستانی حکومت کی جانب سے متاثرہ پاکستانیوں کو اپنے سامان کی واپسی کیلئے پاکستانی سفارتی مشن سے رابطہ کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے بے دخل کیے گئے اور وہاں اپنے اثاثے چھوڑنے پر مجبور ہونے والے پاکستانی شہری مدد کے لیے پاکستانی سفارتی مشنوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بڑے پیمانے پر بے دخلیوں کی رپورٹس غلط ہیں اور بے دخل کیے جانے والے افراد کی تعداد انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے اعداد و شمار سے کہیں کم ہے۔

(جاری ہے)

پہلے اس بات کو واضح کر دیں کہ یہ تعداد تقریباً تین سے چار ہزار کے قریب ہے۔ اس لیے لاکھوں میں بتائے جانے والے تمام اعداد و شمار مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔

ان رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ کچھ بیدخل کیے گئے پاکستانی یو اے ای میں چھوڑی گئی اپنی بچتوں، جائیداد یا دیگر اثاثوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے، ترجمان نے کہا کہ متاثرہ افراد پاکستان کے سفارتی مشنوں سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اور جو بھی اثاثے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں واگزار کرایا جائے گا، اور مجھے یقین ہے کہ ابوظہبی کے حکام کسی بھی فرد کے ذاتی اثاثے اپنے پاس رکھنا نہیں چاہیں گے۔

یو اے ای میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، خلیجی ملک کے قانونی و انتظامی نظام پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا مسئلہ حالیہ مہینوں میں اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب مین سٹریم اور سوشل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو یو اے ای سے نکالا جا رہا ہے۔

بعض رپورٹس میں ان بیدخلیوں کو رواں سال کے شروع میں ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی تنازع کے دوران ایران کے لیے پاکستان کی سفارتی حمایت سے جوڑا گیا تھا۔ پاکستانی اور اماراتی حکام نے ایسے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیدخلیاں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں اور دیگر قانونی معاملات سے متعلق تھیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات