سندھ میں پانی کی شدید قلت قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی اور سندھ دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، قادر مگسی

دریائے سندھ صوبے کی تاریخی، ثقافتی اور آفاقی ملکیت ہے، بارہ مہینے پانی کا بہائو برقرار رہنا اور اس کا پانی سمندر تک پہنچنا سندھ کا فطری، قانونی اور ماحولیاتی حق ہے

جمعہ 12 جون 2026 22:10

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2026ء) سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی اور سندھ دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، دریائے سندھ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور آفاقی ملکیت ہے، جس میں بارہ مہینے پانی کا بہا برقرار رہنا اور اس کا پانی سمندر تک پہنچنا سندھ کا فطری، قانونی اور ماحولیاتی حق ہے۔

ایک بیان میں قادر مگسی نے کہا کہ دریائے سندھ ہزاروں سال سے سندھ کی تہذیب، زراعت اور معیشت کی بنیاد رہا ہے۔ دریا میں پانی کی قلت کے باعث نہ صرف لاکھوں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو رہی ہے بلکہ پینے کے صاف پانی کا بحران بھی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر ٹھٹھہ، سجاول اور بدین سمیت ساحلی علاقوں میں سمندر کے بڑھتے ہوئے پانی کے باعث زرخیز زمینیں، جنگلات اور آبادیاں تباہ ہو رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سمندر تک پانی کا پہنچنا کسی صورت پانی کا ضیاع نہیں بلکہ سندھ ڈیلٹا، سمندری ماحول، مچھلیوں کی نسلوں اور ساحلی آبادیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

دنیا کے ہر بڑے دریا کی طرح دریائے سندھ کا بھی اپنی قدرتی منزل یعنی سمندر تک پہنچنا لازمی ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت اور ارسا سے مطالبہ کیا کہ 1991 کے آبی معاہدے کے تحت سندھ کو اس کا مکمل حصہ دیا جائے، دریا کے قدرتی بہا کو بحال کیا جائے اور ایسے تمام منصوبوں کو مسترد کیا جائے جو سندھ کے پانی پر مزید ڈاکہ ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ کے پانی پر قبضے اور دریائے سندھ کو خشک کرنے کی کوششیں سندھ کے وجود پر براہِ راست حملہ ہیں۔ سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ کے عوام کے ساتھ مل کر پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جمہوری، سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔