گیس پیدا کرنے والی دھرتی کے باسی گیس سے محروم، ضلع بدین میں بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر عوام سراپا احتجاج

منگل 23 جون 2026 21:52

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جون2026ء) گیس پیدا کرنے والی دھرتی کے باسی گیس سے محروم، ضلع بدین میں بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر عوام سراپا احتجاج۔ضلع بدین، جو سندھ کے گیس پیدا کرنے والے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے اور جہاں سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس ملک کے مختلف حصوں کو فراہم کی جاتی ہے، خود شدید گیس بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

پنگریو سمیت بدین، ماتلی، ٹنڈو باگو، تلہار، گولارچی اور درجنوں چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہاتوں میں گیس کی بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پریشر میں مسلسل کمی نے لاکھوں شہریوں کی زندگی مشکلات سے دوچار کر دی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق صبح، دوپہر اور رات کے اوقات میں گیس کا پریشر اس قدر کم ہو جاتا ہے کہ چولہے جلانا بھی ممکن نہیں رہتا جبکہ کئی علاقوں میں گھنٹوں تک گیس مکمل طور پر غائب رہتی ہے۔

(جاری ہے)

گھریلو خواتین کو کھانا پکانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے جبکہ ہوٹلوں، بیکریوں، چائے خانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بدین کی سرزمین سے نکلنے والی قدرتی گیس قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے لیکن مقامی آبادی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ عوام کا مقف ہے کہ گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ احساس محرومی اور عوامی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی، بڑھتی ہوئی طلب، ترسیلی نظام کی کمزوریاں اور بنیادی ڈھانچے میں ناکافی سرمایہ کاری بحران کی اہم وجوہات ہیں، تاہم گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ شہری، تاجر، سماجی تنظیمیں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افرادنے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیاہے کہ ضلع بدین میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، کم پریشر کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے عوام کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔