پولیس کو کسی ملزم کا سر منڈوانے یا تذلیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں، لاہور ہائیکورٹ

گوجرانوالہ میں ملزمان کو گنجا کرکے ویڈیو وائرل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار، آر پی او سے تفصیلی رپورٹ طلب

Sajid Ali ساجد علی بدھ 24 جون 2026 12:14

پولیس کو کسی ملزم کا سر منڈوانے یا تذلیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں، لاہور ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کے انسانی حقوق اور ان کی عزتِ نفس کے تحفظ کے حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس تفتیش یا حراست کے دوران ملزمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تضحیک آمیز یا غیر انسانی رویہ اختیار نہیں رکھ سکتی۔ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے وکیل احمد چوہدری کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس علی ضیا باجوہ نے سماعت کی، یہ درخواست گوجرانوالہ میں پولیس کی جانب سے ملزمان کو گنجا کرکے ہتھکڑیاں لگا کر ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی، عدالت نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گوجرانوالہ پولیس کی جمع کروائی گئی رپورٹ کو یکسر غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے اپنے تحریری حکم نامے میں پولیس کے اختیارات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حدود کا تعین کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے یا کسی بھی ملزم کی تذلیل کرے، پولیس کو قطعی طور پر یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سزا کے طور پر کسی ملزم کا سر منڈوا دے، اس کی داڑھی کاٹ دے، یا اس کے ساتھ کوئی اور غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کرے۔

(جاری ہے)

معزز جج نے اپنے حکم نامے میں ملزمان کی تضحیک آمیز ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلانے کے عمل کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا، عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز وائرل ہونے سے ناصرف ملزم کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے، بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سے عوام کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے، پولیس افسران کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ قانون کے محافظ ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ صرف اور صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور ہر شہری کی عزت و بنیادی حقوق کا مکمل احترام کریں۔

بتایا گیا ہے کہ عدالت نے گوجرانوالہ پولیس کی رپورٹ میں موجود سنگین تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا، اس رپورٹ میں پولیس کا کہنا تھا کہ متعلقہ کیس میں صرف 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں صاف طور پر 9 افراد پولیس کی حراست میں نظر آ رہے ہیں، اس تضاد پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پورے واقعے اور ویڈیو میں موجود تمام افراد کے حوالے سے دوبارہ ایک جامع اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔