متنازعہ ٹیلی کام بل میں ترمیم کردی گئی، نیا ڈرافٹ تیار

مالکان کی اجازت کے بغیر نجی پراپرٹی پر کوئی ٹاور نہیں لگے گا؛ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی یقین دہانی

Sajid Ali ساجد علی بدھ 24 جون 2026 11:55

متنازعہ ٹیلی کام بل میں ترمیم کردی گئی، نیا ڈرافٹ تیار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2026ء) وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل پر پائے جانے والے شدید عوامی اور سیاسی اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ایک نیا ڈرافٹ تیار کرلیا، وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اٹھائے گئے خدشات پر دوٹوک وضاحت پیش کرتے ہوئے شہریوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ بل بالکل متنازعہ نہیں ہے، اس میں نجی املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرانے ڈرافٹ میں شہریوں کی نجی پراپرٹیز پر فائبریزیشن اور ٹیلی کام تنصیبات لگانے سے متعلق شقوں پر شدید اعتراضات سامنے آئے تھے، جن پر اب مکمل نظرِثانی کرتے ہوئے بیل کا نیا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے، بل کے اس نئے ڈرافٹ میں عوام کی نجی جائیدادوں کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متبادل اور ممکنہ حل تجویز کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ سرکاری اراضی پر مفت رائٹ آف وے دینے کی تجویز پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے وفاقی وزیرِ قانون نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کے تحت کسی بھی نجی املاک پر مالکان کی پیشگی اجازت اور حتمی منظوری کے بغیر نہ تو کوئی ٹاور نصب کیا جائے گا اور نہ ہی کسی ٹیلی کام کمپنی کو وہاں کسی قسم کی سرگرمی شروع کرنے کی اجازت ہوگی، قائمہ کمیٹی میں بل کی جن شقوں پر اعتراضات اور ابہام سامنے آئے ہیں، ان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے، قانون سازی کے دوران اعتراضات کا آنا آئینی طریقہ کار کا حصہ ہے، اب ان تمام شقوں میں مزید واضح قانونی وضاحت شامل کر دی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی یا ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔