نیدرلینڈز میں پاکستان رائس فیسٹیول میں یورپ کے 100 سے زائد کاروباری و غذائی شعبے کے رہنماؤں کی شرکت، حکومت زرعی و غذائی برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جام کمال خان

بدھ 24 جون 2026 12:09

نیدرلینڈز میں پاکستان رائس فیسٹیول  میں یورپ کے 100 سے زائد کاروباری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جون2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے نیدرلینڈز میں منعقدہ پاکستان رائس فیسٹیول 2026 کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بین الاقوامی تجارتی ایونٹس پاکستانی برآمدات کے فروغ، نئی منڈیوں تک رسائی اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ترجمان وزارت تجارت کے مطابق وزیر تجارت نے نیدرلینڈز میں پاکستانی سفیرِ سید حیدر شاہ، ٹریڈ اور انویسٹمنٹ قونصلر شفیق حیدر وِرک اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی باسمتی چاول دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بن چکا ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب ملکی زرعی شعبے اور برآمد کنندگان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

(جاری ہے)

جام کمال خان نے یورپ بھر سے 100 سے زائد درآمد کنندگان، ریٹیلرز، فوڈ انڈسٹری کے ماہرین، معروف شیفس، سفارتی نمائندگان اور کاروباری رہنماؤں کی شرکت کو پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان زرعی و غذائی برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

تقریب ’’پاکستان کے کھیتوں سے یورپ کے دسترخوان تک‘‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد پاکستانی باسمتی چاول کو یورپی منڈی میں مزید متعارف کرانا، تجارتی روابط کو فروغ دینا اور زرعی و غذائی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔اس موقع پر نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر سید حیدر شاہ نے کہا کہ پاکستانی باسمتی چاول دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں اور اپنی منفرد خوشبو، لمبے دانے اور شاندار پکانے کی خصوصیات کے باعث عالمی صارفین، ریٹیلرز اور ماہرینِ طعام میں مسلسل مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی و غذائی مصنوعات کے شعبے میں معیار، پائیداری، ٹریس ایبلٹی اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستانی باسمتی محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ جغرافیائی شناخت سے محفوظ ایک منفرد برانڈ ہے جو صدیوں پر محیط زرعی ورثے اور بین الاقوامی معیار کی نمائندگی کرتا ہے۔تقریب کے دوران شرکاء کو اعلیٰ معیار کے پاکستانی باسمتی چاول کی مختلف اقسام، بالخصوص سپر کرنل باسمتی، چکھنے کا موقع فراہم کیا گیا جبکہ پاکستانی باسمتی چاول سے تیار کردہ روایتی اور جدید پکوان بھی پیش کیے گئے۔

شرکاء کو باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت (GI)، معیار کی یقین دہانی، ٹریس ایبلٹی نظام اور یورپی مارکیٹ کے تقاضوں سے مطابقت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔تقریب میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان زرعی و غذائی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔واضح رہے کہ نیدرلینڈز یورپی یونین میں پاکستان کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 1.94 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 50 سے زائد ڈچ کمپنیاں پاکستان میں مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔