ًمولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ انتہائی اہم ہے،رانا ثناء اللہ

بدھ 24 جون 2026 19:12

ًمولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ انتہائی اہم ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جون2026ء) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ انتہائی اہم ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو جنم نہیں لینا چاہیے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ان سے بات کرے گی تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر حکومت نے ایک ایک نکتے پر بات کی اور وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی مفاد سے متعلق مطالبات فوری طور پر پورے کیے۔ ان کے مطابق حکومت نے آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمت میں تین روپے فی یونٹ کمی کی اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 10 ارب روپے فراہم کیے۔

(جاری ہے)

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک مطالبہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا بھی تھا، تاہم حکومت کا مؤقف تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا استحقاق اور آئینی اختیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن اکتوبر سے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، لیکن 9 جون کو احتجاج کی کال دی گئی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بعض عناصر انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا تھا کہ عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہر جائز مطالبہ پورا کیا جائے گا اور حکومت نے اپنے وعدوں پر عمل بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین نے اپنے گھر، جائیدادیں اور جانیں قربان کیں، حتی کہ شہید مقبول بٹ کا خاندان بھی پشاور میں مقیم ہے، اس لیے مہاجرین کو ان کے نمائندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، کیونکہ اگر وہ اپنا کام نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور موجودہ حالات میں سوال یہ ہے کہ آخر کس مقصد کے لیے لشکر کشی کی جا رہی ہے۔