افسوس کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہی

وفاق کے ذمے 434 ارب روپے کے فنڈز ادا نہیں کئے جارہے، حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر ٹیکسز نہ لگانے کا وعدہ کیا پھر بھی ٹیکسز میں توسیع کردی گئی۔ اسد قیصر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 24 جون 2026 20:10

افسوس کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 جون 2026ء ) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ افسوس کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہی ، وفاق کے ذمے 434 ارب روپے کے فنڈز ادا نہیں کئے جارہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، وہاں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو توسیع دی گئی ہے۔

ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہماری وزیرِ اعظم سے بات ہوئی، پھر وزیرِ خزانہ سے ہماری بات ہوئی، جن کے ساتھ رانا ثناء اللہ بھی تھے۔ بات ہوئی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم یہ ٹیکس نہیں لگائیں گے۔

(جاری ہے)

دوسرا، تمباکو پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، لیکن دونوں چیزیں انہوں نے مسترد کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔

این ایف سی میں ہمارے حصے کا مسئلہ ہے، جو ہمیں نہیں مل رہا۔ وفاق کے ذمے ہمارے 434 ارب روپے کے فنڈز ہیں، جو نہیں دیے جا رہے۔ ضم شدہ اضلاع کے بارے میں جو کمٹمنٹ کی گئی تھی، وہ بھی پوری نہیں کی جا رہی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کے فلور پر ہم نے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ ان شاء اللہ ہم ہر موقع پر اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

اسد قیصر نے کہا کہ آزاد کشمیر سے ہمارے پی ٹی آئی عہدیداران آئے ہوئے ہیں، انہوں نے ہمیں بتایا کہ کشمیر میں اس وقت کیا ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج اس ایشو کے بارے میں ہمیں موقع نہیں دیا گیا، ہمیں اپنا موقف دینا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر بہت حساس علاقہ ہے، انہوں نے جو رویہ رکھا، جس طرح اس چیز کو کسی خاطر میں نہیں لایا، جبر، ظلم، تشدد اور ڈھنڈے سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

میں حکمرانوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہم سب کا ہے، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، یہ ہماری شہ رگ ہے۔ اس قسم کا رویہ پاکستان کے خلاف ہے، ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ کشمیر میں ایسے جذبات اُبھریں جن کی وجہ سے کشمیری ہم سے ناراض ہوں۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، ان شاء اللہ اس کے لیے مسلسل آواز بھی اُٹھائیں گے اور عاشورہ کے بعد کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔