Live Updates

ایم پی اے نصیر احمد کا کے ایم سی میں مبینہ میگا کرپشن، غیر قانونی الاٹمنٹس اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

جمعرات 25 جون 2026 17:12

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2026ء) رکن سندھ اسمبلی اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نصیر احمد نے کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) میں مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹس، جعلی بھرتیوں، سرکاری اراضی کی فروخت اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملات پر متعلقہ اداروں سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔جاری کردہ مراسلوں کے مطابق نصیر احمد نے ضلع غربی کے علاقے منگھوپیر میں واقع سیکٹر 7-A اور T.O.ST کی قیمتی سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ، لیز اور نیلامی سے متعلق معاملات اٹھاتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ، منظوریوں، فائلوں اور لینڈ دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے کراچی رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین سعید تنولی اور عوام دوست پارٹی کے چیئرمین شاہد آرائیں نے بھی مطالبہ کیا کہ کے ایم سی میں مبینہ میگا کرپشن کے تمام معاملات کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ بعض افسران کے خلاف سامنے آنے والے الزامات، مبینہ اختیارات کے غلط استعمال اور سرکاری معاملات میں مداخلت کے دعوں کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مختلف افسران اور متعلقہ افراد کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات، تقرریوں، انتظامی فیصلوں اور مالی معاملات کا ریکارڈ بھی حاصل کرکے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔بیان میں کہا گیا کہ ہل پارک، جھیل پارک، عمر شریف پارک، مختلف بس ٹرمینلز، پیٹرول پمپس، کمرشل پلاٹس اور کے ایم سی کے دیگر سرکاری اثاثوں سے متعلق معاملات بھی تحقیقات میں شامل کیے جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید کہا گیا کہ شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ، مبینہ جعلی تقرریوں، غیر قانونی بھرتیوں، گھوسٹ ملازمین، قواعد کے برخلاف ترقیوں اور سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل جیسے معاملات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔رہنمائوں کے مطابق ملازمین کے فلاحی فنڈز، پنشن اور دیگر مالی وسائل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اضافی تنخواہوں کی ادائیگیوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور اگر کسی سطح پر ذمہ داری ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

انہوں نے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام الزامات اور شکایات کی مشترکہ تحقیقات کرکے قومی وسائل کے تحفظ اور شفاف احتساب کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق متعلقہ معاملات سے وابستہ دستاویزات اور شواہد محرم الحرام کے بعد ایم پی اے نصیر احمد کو فراہم کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد معاملہ متعلقہ فورمز پر مزید اٹھایا جائے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور مطالبات متعلقہ فریقین کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق یا سرکاری سطح پر توثیق سامنے نہیں آئی۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات