افغان طالبان رجیم کےمعاشی ترقی کے دعوے جھوٹے ثابت ہو گئے

منگل 30 جون 2026 12:25

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) افغان طالبان رجیم کےمعاشی ترقی کے دعوے جھوٹے ثابت ہو گئے،افغان اخبارزمینی حقائق سامنے لے آیا۔تفصیلات کے مطابق پڑوسی ممالک میں دہشتگردی پھیلانے والی طالبان رجیم نے افغان شہریوں کوشدید معاشی بدحالی کا شکارکر دیا۔افغانستان کے مقامی اخبار"ہشت صبح ''نے افغان عوام کی حالت زار کو آشکار کیا کہ نام نہاد معاشی ترقی کے دعویدارطالبان رجیم میں عام افغان شہری ایک وقت کا کھانابھی نہیں خریدسکتے۔

کابل کے شہری کہتے ہیں کہ طالبان رجیم کے بہترمعیشت کے دعوے لوگوں کی روزمرہ زندگی کی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتے،اخبار کے مطابق طالبان نے خواتین کوپابندیوں میں جکڑکراورانہیں معاشی سرگرمیوں سےنکال کرافغان معیشت کو شدید تباہی سے دوچار کردیا ہے،ہشت صبح کے مطابق افغان مزدوروں کا کہنا ہے کہ طالبان کومعاشی ترقی کی بات کرنے سے پہلےعوام سے پوچھنا چاہیےکہ کیا وہ خوشحال ہیں؟طالبان رجیم میں روزگار کےمواقع انتہائی محدود جبکہ بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بھی ضروری سہولیات موجود نہیں۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریٹر ایچم سٹینرکے مطابق افغان خواتین کی معیشت میں فعال شرکت کے بغیر افغانستان کی معیشت کی پائیدار بحالی ممکن نہیں ،مقامی افغان اخباراوراقوامِ متحدہ کی رپورٹس نے واضح کردیا ہے کہ طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں نےعام افغان عوام کومعاشی تباہی کی دلدل میں دھکیل دیاہے۔