وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے بھرتیوں سے متعلق دائر درخواست نمٹا دی

درخواست گزار اپنے تمام اعتراضات متعلقہ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائیں جہاں مقدمہ زیر سماعت ہے، ریمارکس

منگل 30 جون 2026 22:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جون2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے بھرتیوں سے متعلق دائر درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار اپنے تمام اعتراضات متعلقہ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائیں جہاں مقدمہ زیر سماعت ہے۔منگل کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ابھی مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا بلکہ صرف عبوری حکم جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے 14 مئی کے حکم امتناع کو چیلنج نہیں کیا گیا جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے صرف 22جون کا حکم زیر بحث ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2024 کے پبلک سروس کمیشن امتحان کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے اور کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز کے خلاف حکم امتناع بھی جاری کیا ہوا ہے جس سے کامیاب امیدواروں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

(جاری ہے)

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے ریکارڈ غالبا جائزہ لینے کیلئے طلب کیا ہوگا اور اگر درخواست گزار کو کسی بھی حکم یا کارروائی پر اعتراض ہے تو وہ تمام نکات سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے جائیں۔دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی درخواست نمٹا دی۔