گوانگژو میں سی آئی سی اے مقابلے،پاکستانی ٹیم نے چیمپئن شپ جیت لی

پاکستانی وفد کو آؤٹ اسٹینڈنگ آرگنائزیشن ایوارڈ سے بھی نوازاگیا

جمعہ 3 جولائی 2026 19:50

گوانگژو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جولائی2026ء) پاکستانی وفد نے چین کے شہر گوانگژو میں منعقد ہونے والے پہلے سی آئی سی اے بین الاقوامی مہارتی مقابلے میں ہائی وولٹیج کیبل انٹیلیجنٹ آپریشن و معائنہ کی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے چیمپئن شپ اپنے نام کر لی، جبکہ بہترین نظم و ضبط، مؤثر ہم آہنگی اور بین الاقوامی تبادلہ خیال میں فعال شرکت پر وفد کو آؤٹ اسٹینڈنگ آرگنائزیشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت پاکستان کی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی چیئرپرسن گل مینا بلال احمد نے کی، جبکہ ہیروبوس ٹیکنالوجی کے صدر وانگ چون پنگ ٹیم لیڈر تھے۔ ٹیم کے دیگر ارکان میں ہوانینگ گروپ کے وقاص رسول اور ہیروبوس ٹیکنالوجی کے سعید اظہر شامل تھے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق وقاص رسول نے ہائی وولٹیج کیبل کی انٹیلیجنٹ آپریشن اور معائنہ کی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

انہوں نے تقریباً صفر غلطی کے ساتھ انتہائی درستگی، مؤثر فالٹ تشخیص اور جدید اسمارٹ ٹیسٹنگ آلات کے بہترین استعمال کا مظاہرہ کیا۔ اس مقابلے میں دو بنیادی مراحل شامل تھے،ہائی وولٹیج پلاسٹک کیبل کی پری پروسیسنگ، اور کیبل کی لمبائی کی پیمائش و راستے کی نشاندہی۔ مقابلے میں کامیابی کے لیے اعلیٰ جسمانی برداشت، مستقل مزاجی، غیرمعمولی درستگی اور تکنیکی ڈرائنگز پر مکمل عبور درکار تھا، جہاں پیمائش کی حد ملی میٹر جبکہ انسولیٹنگ سطح کی ہمواری مائیکرون کی سطح پر برقرار رکھنا ضروری تھا۔

رپورٹ کے مطابق سی آئی سی اے مہارتی مقابلے کا انعقاد آل چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے زیر اہتمام گوانگ ڈونگ لنگنان ماڈرن ٹیکنیشن کالج میں کیا گیاجس میں 23 ممالک سے تقریباً 80 ماہرین، ہنرمند کارکنان، اسکالرز اور سرکاری نمائندوں نے شرکت کی۔ سی آئی سی اے کے فریم ورک کے تحت منعقد ہونے والے اس پہلے سرحد پار مہارتی مقابلے کا مرکزی موضوع قیادت، اشتراک اور عملی مہارت تھا۔

مقابلے میں اینٹ چنائی، ڈرون (UAV) کی اسمبلنگ و مینٹیننس، اور ہائی وولٹیج کیبل کے انٹیلیجنٹ آپریشن و معائنہ سمیت تین مختلف شعبے شامل تھے۔مرکزی مقابلوں کے علاوہ پانچ روزہ پروگرام کے دوران تکنیکی تبادلہ خیال کے فورمز اور ثقافتی نمائشوں کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں گوانگڑو کی مقامی دستکاری اور جدید روبوٹکس ٹیکنالوجی کو پیش کیا گیا۔

ان سرگرمیوں کا مقصد علاقائی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی تربیت اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ رپورٹ کے مطابق واضح رہے کہ ایشیا میں باہمی روابط اور اعتماد سازی اقدامات پر کانفرنس (سی آئی سی ای) کا قیام 1992 میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت اس تنظیم کے 28 رکن ممالک اور 15 مبصر ممالک و بین الاقوامی ادارے شامل ہیں، جو ایشیا کے 90 فیصد سے زائد رقبے اور دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سی آئی سی ایایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم کثیرالجہتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔