بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنا بین الاقوامی آبی معاہدوں کی روح کے خلاف ہے، شیری رحمن

بانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا، نائب صدر پیپلز پارٹی کا بیان

منگل 7 جولائی 2026 21:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 جولائی2026ء) نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنا بین الاقوامی آبی معاہدوں کی روح کے خلاف ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے حوالے سے ایکس پر اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ ھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنا بین الاقوامی آبی معاہدوں کی روح کے خلاف ہے۔

انہوںنے کہاکہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کا آبی معاملات کو سیاسی دبا کے لیے استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی مرضی سے ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی ثالثی عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت معاملات طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ عالمی ثالثی کے فیصلوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے، سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک آبی تنازعات کے حل کا مثر فریم ورک رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کے امن، اعتماد اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان زیریں دریائی ملک ہونے کے باعث اپنے آبی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی کا اہم معاملہ سمجھتا ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ دریائوں کے قدرتی بہا اور پانی کے منصفانہ استعمال کے اصولوں کا احترام ضروری ہے، آبی حقوق کا تحفظ پاکستان کی زراعت، معیشت، غذائی تحفظ اور مستقبل سے براہ راست وابستہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے دور میں پانی کو تنازع نہیں بلکہ تعاون کا ذریعہ بنانا ہوگا، سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن، تعاون اور باہمی اعتماد کی بنیاد ہے۔

شیری رحمان نے کہاکہ عالمی برادری کو آبی معاہدوں کے احترام اور پانی کو بطور دبا استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے،پاکستان قانونی، سفارتی اور تکنیکی ذرائع سے اپنے آبی حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔