ابرار الحق نے گانے نچ پنجابن کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی

اس کامیابی کے بعد پاکستان میں پاپ اور بھنگڑا موسیقی کے نمایاں فنکاروں میں شمار کیا جانے لگا

جمعرات 9 جولائی 2026 16:43

ابرار الحق نے گانے نچ پنجابن کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2026ء) معروف گلوکار ابرار الحق نے اپنے مقبول ترین گانے نچ پنجابن کی تخلیق کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس گانے کا مشہور جملہ گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ کس طرح وجود میں آیا۔ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ابرار الحق نے بتایا کہ میں گانے کے ابتدائی بول لکھ رہا تھا، جن میں میری سائیکل ہولی چل دی سی، میں گاڈی فل پگھاواں گا، سائیکل تے بندے دو بندے، میں پوری قوم بٹھا منگاں شامل تھے، اسی دوران میں نے اپنے کزن ٹیپو سے گانے پر رائے طلب کی۔

ابرار الحق کے مطابق میں نے پوچھا ٹیپو! کیسا لگ رہا ہی جس پر میرے کزن نے جواب دیا کہ گانا اچھا ہے، لیکن اس میں پنجابی ٹچ محسوس نہیں ہو رہا۔گلوکار نے بتایا کہ یہی بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی اور میں نے گانے پر مزید کام کرتے ہوئے اچانک یہ مصرع تخلیق کیا، تھوڑا جیا گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ، تھوڑا جیا میوزک نوں دے دے پنجابی ٹچ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس گانے کو نئی پہچان دی اور نچ پنجابن اسی انداز میں مکمل ہوا۔

ابرار الحق 1995 میں اپنے پہلے البم بلو دے گھر سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے، جس کی دنیا بھر میں 1 کروڑ 60 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں، اس کامیابی کے بعد انہیں پاکستان میں پاپ اور بھنگڑا موسیقی کے نمایاں فنکاروں میں شمار کیا جانے لگا۔بعد ازاں ان کے دیگر گانے بھی بے حد مقبول ہوئے اور انہوں نے پاکستان میں بھنگڑا موسیقی کو نئی شناخت دی۔ان کے گانے نچ پنجابن کو 2000 کی دہائی کے آغاز میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب بعض حلقوں نے گانے میں لفظ پنجابن کے استعمال کو پنجابی خواتین کے لیے نامناسب قرار دیا، اس کے بعد ابرار الحق نے گانے کو نئے انداز میں ریکارڈ کیا اور اس کا نام نچ مجاجن رکھ دیا۔