وفاقی آئینی عدالت میں دلچسپ مکالمہ، شمیم بی بی کا نام سن کر شہری روسٹرم پر پہنچ گیا

"شادی کی تاریخ یاد نہیں، دیہاتی آدمی ہوں، اس وقت کی حکومت کا بھی معلوم نہیں" شہری کا جسٹس حسن اظہر رضوی کی جانب سے شادی کی تاریخ پوچھنے پر جواب

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی منگل 14 جولائی 2026 17:48

وفاقی آئینی عدالت میں دلچسپ مکالمہ، شمیم بی بی کا نام سن کر شہری روسٹرم ..
اسلام آباد:(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) وفاقی آئینی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب "شمیم بی بی" کیس کی پکار لگائی گئی تو ایک دیہاتی شہری اچانک روسٹرم پر آ گیا اور جج کے سوالات کے دلچسپ جوابات سے کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں عدالت میں مختلف مقدمات کی سماعت جاری تھی کہ اسی دوران شمیم بی بی نامی خاتون کے مقدمے کی پکار ہوئی۔

نام سنتے ہی ایک دیہاتی شخص فوری طور پر روسٹرم پر پہنچ گیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے شہری سے استفسار کیا کہ وہ روسٹرم پر کیوں آئے ہیں۔ اس پر شہری نے پنجابی لہجے میں جواب دیا کہ "شمیم بی بی میری بیگم کا نام ہے، اس لیے میں سمجھا شاید مجھے بلایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

" شہری کا جواب سن کر عدالت میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مسکراتے ہوئے شہری سے کہا کہ فائل کے مطابق تو شمیم بی بی بیوہ ہیں، پھر وہ آپ کی اہلیہ کیسے ہو سکتی ہیں؟ شہری نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیوی کا نام بھی واقعی شمیم بی بی ہی ہے۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید پوچھا کہ ان کی شادی کب ہوئی تھی۔ شہری نے جواب دیا کہ انہیں اپنی شادی کی درست تاریخ یاد نہیں۔ تاہم جب عدالت نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر انہیں کیا یاد ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی شادی کو تقریباً بیس سے پچیس سال گزر چکے ہیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزاحیہ انداز میں شہری سے پوچھا کہ جب ان کی شادی ہوئی تھی تو اس وقت کس کی حکومت تھی۔

اس سوال پر شہری نے معصومیت سے جواب دیا کہ وہ ایک دیہاتی آدمی ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس وقت کس کی حکومت تھی۔ شہری کے سادہ اور بے ساختہ جوابات پر کمرہ عدالت میں موجود وکلا اور دیگر افراد اپنی مسکراہٹ نہ روک سکے جبکہ عدالت میں خوشگوار ماحول پیدا ہوگیا۔ بعد ازاں جسٹس حسن اظہر رضوی نے شہری کو بتایا کہ یہ مقدمہ ان سے متعلق نہیں ہے اور انہیں اپنی نشست پر واپس بیٹھ جائیں۔