اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جولائی 2026ء) عوامی جمہوریہ چین کے دارالحکومت بیجنگ سے ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اور کمیونسٹ نظام حکومت والے ملک میں بیرونی دنیا کے میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو شکایت یہ ہے کہ چینی پولیس اور حکام ان کی طرف سے کی جانے والی پیشہ وارانہ تحقیق کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور ممکنہ انٹرویوز کے لیے جن افراد کے ساتھ باقاعدہ وقت اور دن طے بھی ہو چکے ہوتے ہیں، وہ بھی زیادہ تر حکام کی طرف سے دباؤ کے بعد انٹرویو دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
چین میں مقیم غیر ملکی نامہ نگاروں کی تنظیم
چین
میں غیر ملکی میڈیا کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے بھیجے گئے صحافیوں کی تنظیم کا نام '‘چین میں غیر ملکی نامہ نگاروں کا کلب‘ یا FCCC ہے۔(جاری ہے)
اس تنظیم نے اب اپنی جو نئی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، اس کے مطابق چین میں غیر ملکی صحافیوں کو نہ صرف اپنی رپورٹنگ کے سلسلے میں حکام کی طرف سے مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے، بلکہ ایک منظم حکومتی رویے کے طور پر ان کے کام میں روڑے بھی اٹکائے جاتے ہیں۔
جنگ
کے باعث چینی پراپیگنڈا میں امریکہ کا تاثر جارح طاقت کاایف سی
سی سی کی اس رپورٹ کے مطابق ان غیر ملکی صحافیوں کی چین میں نہ صرف نگرانی کی جاتی ہے، بلکہ انہیں ایسی 'سرخ لکیروں‘ کی موجودگی میں اپنا فرائض انجام دینا پڑتے ہیں، جو بہت مبہم اور غیر واضح ہوتی ہیں۔چین
میں آن لائن ’منفی مواد‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤنان غیر ملکی صحافیوں کے مطابق وہ روزانہ کی بنیادوں پر ایسے ماحول میں کام کرتے ہیں، جہاں یہ بات غیر یقینی ہوتی ہے کہ کب ان کے بارے میں حکام یہ کہہ دیں کہ انہوں نے اپنے فرائض کے انجام دہی کے دوران کوئی ایسی 'ریڈ لائن‘ پار کر لی ہے، جس سے انہیں لازمی طور پر دور ہی رہنا تھا۔
چین میں غیر ملکی صحافیوں کے حالات کار اور بین الاقوامی معیار
FCCC نے اپنے رکن صحافیوں کی مدد سے ایک سروے بھی مکمل کیا۔ اس سروے میں 94 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ چین میں صحافیوں کے لیے حالات کار بین الاقوامی معیار پر یا تو عموماﹰ پورا نہیں اترتے یا پھر بالکل بھی نہیں۔
ہانگ کانگ: عدالت نے دو صحافیوں کو بغاوت کا مجرم قرار دے دیا
اس سروے میں تقریباﹰ دو تہائی رائے دہندہ صحافیوں نے بتایا کہ انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تحقیق کے دوران کم از کم ایک مرتبہ چینی پولیس یا حکام کی طرف سے رکاوٹوں کے سامنا کرنا پڑا۔
ان رائے دہندگان میں سے آٹھ فیصد نے تو یہ بھی کہا کہ انہیں بطور صحافی چین میں قیام کے دوران جسمانی طور پر بدسلوکی یا حکام کی طرف سے طاقت کے استعمال کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وائٹ ہاؤس
کے صحافیوں پر حملے اور پریس کی آزادی پر ان کے اثراتاس سروے میں کئی صحافیوں نے اس بارے میں تفصیلات بھی بتائیں کہ کس طرح ان کا پیچھا بھی کیا گیا، ان کی جاسوسی کرتے ہوئے ٹیلیفون پر گفتگو بھی سنی گئی اور کئی واقعات میں تو چینی حکام نے انہیں ان کی طرف سے کی گئی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگز ڈیلیٹ کرنے پر بھی مجبور کر دیا۔
دنیا
بھر میں آزادی صحافت بدترین سطح پر، آر ایس ایفاس سروے کے نتائج سے یہ پتا بھی چلا کہ چین کی طرف سے رواں سال کے آغاز پر تائیوان کے بارے میں رپورٹنگ پر دباؤ میں خاص طور پر اضافہ کر دیا گیا۔
ادارت: عدنان اسحاق