شہباز شریف کی مینگو ڈپلومیسی! ہنگری کے وزیراعظم پر بھی پاکستانی آموں کا جادو چل گیا

ہمیں پاکستان کے وزیرِ اعظم کی جانب سے تحفے کے طور پر 90 آم موصول ہوئے، ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی زیادہ تر کھائے گئے، صرف چند ہی باقی بچے؛ پیٹر میگیار کا ٹویٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 جولائی 2026 17:06

شہباز شریف کی مینگو ڈپلومیسی! ہنگری کے وزیراعظم پر بھی پاکستانی آموں ..
بڈاپسٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) وزیرِ اعظم شہباز شریف کی "مینگو ڈپلومیسی" عالمی سطح پر اس وقت دلچسپ صورت اختیار کر گئی جب ہنگری کے وزیرِ اعظم پیٹر میگیار نے پاکستان سے بھیجے گئے آموں کے تحفے پر سوشل میڈیا پر ایک منفرد انداز میں تبصرہ کیا، انہوں نے ناصرف ان لذیذ آموں کو ایک خوشگوار سرپرائز قرار دیا بلکہ اس تحفے کا موازنہ نیٹو اجلاس کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ملنے والے پستول سے کرتے ہوئے ایک طنزیہ جملہ بھی داغ دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہنگری کے وزیرِ اعظم پیٹر میگیار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آفیشل اکاؤنٹ پر پاکستان سے موصول ہونے والے آموں کی تصاویر شیئر کیں، انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہر کوئی تحفے میں ریوالور یعنی پستول نہیں دیتا، ایک تاریخی دن کے اختتام پر میرے دفتر میں ایک خوشگوار سرپرائز میرا انتظار کر رہا تھا، ہمیں پاکستان کے وزیرِ اعظم کی جانب سے تحفے کے طور پر 90 آم موصول ہوئے، صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر ان میں سے چند ہی باقی بچے ہیں، آپ کا بہت شکریہ!۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ ہنگری کے وزیرِ اعظم کا یہ جملہ کہ "ہر کوئی تحفے میں ریوالور نہیں دیتا" دراصل ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے اس تحفے کی طرف اشارہ تھا جو انہوں نے حال ہی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سمٹ کے دوران پیٹر میگیار کو دیا تھا، ترک صدر نے نیٹو اجلاس کے موقع پر مختلف سربراہانِ مملکت بشمول ہنگری کے وزیرِ اعظم کو ان کے ناموں کے نقش و نگار والی ایک قیمتی "357 میگنم ریوالور" اور اس کے ساتھ لائیو گولیوں کا ڈبہ تحفے میں دیا تھا۔

پیٹر میگیار نے اس سے قبل اپنی ایک پوسٹ میں اس بندوق کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ایک "غیر معمولی تحفہ" کہا تھا۔
اب جب انہیں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی طرف سے میٹھے آم موصول ہوئے تو انہوں نے بندوق اور گولیوں کے اس تحفے پر ہلکے پھلکے انداز میں طنز کرتے ہوئے آموں کی مٹھاس کو زیادہ پرامن اور خوشگوار قرار دیا، ہنگری کے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ پاکستان سے موصول ہونے والے 90 آم ان کے دفتر میں اس قدر پسند کیے گئے کہ لذیذ اور میٹھے ہونے کی وجہ سے ان کے اسٹاف اور عملے نے صرف ایک ہی گھنٹے کے اندر تقریباً تمام آم چٹ کردیئے اور اب محض چند ہی آم باقی بچے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس سیزن میں دنیا بھر کے 76 ممالک کے سربراہان اور اہم سفارتی شخصیات کو خیر سگالی کے جذبے کے تحت اور پاکستان کے باغات کی پیداوار کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لیے آموں کے خصوصی تحائف بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، اس مہم کا مقصد دوست ممالک کے ساتھ سفارتی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔