اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جولائی 2026ء) فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کے تقریباً 30 عالمی رہنماؤں کو باستیل ڈے فوجی پریڈ میں شرکت کی دعوت دی۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی، جرمن چانسلر فریڈرش میرس اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت اتحادی ممالک کے کئی رہنماؤن نے اس تقریب میں شرکت کی۔
ان رہنماؤں نے پیر کو پیرس میں صدر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کی، جس میں کییف کے لیے مزید فوجی امداد پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے دوران یوکرین اور نو دیگر ممالک نے اعلان کیا کہ وہ یورپ کے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
باستیل ڈے کے موقع پر روایتی طور پر ایک بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔
(جاری ہے)
یہ پریڈ صدر ماکروں کی سربراہی میں ہونے والی دسویں اور آخری باستیل ڈے تقریب تھی۔ فرانس میں صدارتی انتخابات اگلے سال اپریل اور مئی میں دو مراحل میں ہوں گے، جبکہ ماکروں آئینی پابندی کے باعث دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے۔
یوکرین کے اتحادیوں کا روس پر دباؤ بڑھانے کا عزم
یوکرین کے اتحادی ممالک کے اجلاس کے اختتام پر فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا، ''ہم یوکرین کی حمایت مزید تیز رفتاری اور زیادہ مضبوط انداز میں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
ماکروں نے اعلان کیا کہ یوکرین کو 16 رافیل جنگی طیارے فراہم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کییف کو جدید ترین دفاعی نظام بھی مہیا کیے جائیں گے۔
حالیہ ہفتوں میں روس کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں میں اضافے کے باعث یوکرین کا فضائی دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو 'دوگنا‘ کیا جائے۔
دوسری جانب ماسکو نے پیر کے روز اس اجلاس کو ایسے رہنماؤں کا اجتماع قرار دیا جو ''امن نہیں چاہتے‘‘۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، ''یہ جنگ پسندوں کا اتحاد ہے۔‘‘خیال رہے کہ فرانس کا قومی دن ہر سال 14 جولائی کو 1789 میں باستیل جیل پر عوامی حملے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں فرانس میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور بادشاہ لوئی شانزدہم اور ملکہ میری اینٹونیٹ کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ