اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جولائی 2026ء) ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ایرانی عوام کو بارہا بتایا گیا ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ تاہم دوسری جانب حملے، دھمکیاں اور سفارتی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی حکام ایک دن مذاکرات، پیش رفت اور حتیٰ کہ پابندیوں میں نرمی کے امکانات کی بات کرتے ہیں، جبکہ اگلے ہی روز جوابی کارروائی، مزید حملوں اور ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے خبردار کرتے ہیں۔
بہت سے شہریوں کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال خود جنگ سے بھی زیادہ ذہنی دباؤ کا باعث بن گئی ہے۔ مسئلہ اب صرف تشدد کے خدشے تک محدود نہیں بلکہ ایک مستحکم مستقبل کا تصور کرنے میں ناکامی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
(جاری ہے)
غیر یقینی صورتحال
تہران سے تعلق رکھنے والی ایک وکیل، جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ موجودہ صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں جنگی بحران کب ختم ہو گا۔
انہوں نے کہا، ''اس وقت کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح وقت معلوم نہیں۔ جب آپ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے کوئی منصوبہ ہی نہیں بنا سکتے، تو اس سے شدید ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے ۔‘‘
ان کے مطابق یہ جمود صرف انفرادی مایوسی تک محدود نہیں بلکہ روزگار، خاندان اور مستقبل سے متعلق بنیادی فیصلوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
اصفہان کے ایک رہائشی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''ہم مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں۔ امن اور جنگ کے درمیان مسلسل غیر یقینی کی کیفیت ہمارے اذہان کے لیے کھیل بن چکی ہے، اور ہمیں نہ اپنے مستقبل سے کوئی واضح امید ہے اور نہ ہی اپنی ذہنی اور مالی سلامتی کے حوالے سے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے تجربے نے لوگوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اب نہ جنگ میں شامل کسی بھی فریق پر اعتماد باقی رہا ہے اور نہ ہی اس امید پر کہ کوئی دیرپا معاہدہ ہو سکے گا۔نئی نسل غیر یقینی صورتحال سے زیادہ متاثر
موجودہ غیر یقینی صورتحال کا سب سے زیادہ اثر نوجوان ایرانیوں پر پڑ رہا ہے، جن میں سے بیشتر کو 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران۔عراق جنگ یا طویل عرصے تک جنگی خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے کا کوئی براہِ راست تجربہ نہیں۔
ان کے لیے یہ پہلی بار ہے کہ وہ ایک غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے علاقائی تنازع کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔مغربی ایران سے تعلق رکھنے والی ایک نرس، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کی، نے کہا کہ جب کوئی معاشرہ اس نوعیت کی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو مستقبل پر لوگوں کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ طویل مدتی فیصلے مؤخر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ان کے بقول، جس نسل نے طویل جنگ کا براہِ راست تجربہ نہیں کیا، اس کے لیے موجودہ حالات زیادہ پریشان کن ہیں۔ اس کی وجہ ان کی کمزوری نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی صورتحال میں زندگی گزارنے کا کوئی ذہنی یا عملی نمونہ موجود نہیں۔
غصہ، مایوسی اور ذہنی تھکن میں اضافہ
فرانس
کی یونیورسٹی آف لورین کے پروفیسر سعید پایوندی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار اور فیلڈ ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ایران میں دو رجحانات بیک وقت نمایاں ہیں: مستقبل کے بارے میں گہری مایوسی اور حکومت کی عوامی مسائل حل کرنے اور مؤثر انداز میں حکمرانی کرنے کی صلاحیت پر شدید غصہ۔انہوں نے مئی 2026 میں ایران کی وزارت داخلہ کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے مطابق تقریباً 60 فیصد ایرانی عوام مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔
پروفیسر پایوندی نے ایران وائر کی جانب سے شائع کیے گئے حالیہ سروے کے نتائج کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق 64 فیصد جواب دہندگان نے غصے، تقریباً 50 فیصد نے مایوسی، 48 فیصد نے ڈپریشن جبکہ تقریباً 45 فیصد نے خوف اور بے چینی کا اظہار کیا۔
پروفیسر پایوندی کا کہنا ہے کہ غصے، ڈپریشن اور بے چینی کی شرح میں تقریباً 10 سے 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی کریک ڈاؤن اور اس کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے عوام کی زندگی، سیاست اور مستقبل سے متعلق سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ اس بات نے بنا دیا ہے کہ کسی بھی فریق نے عوام کو مستقبل کے بارے میں کوئی واضح اور قابل اعتماد راستہ یا امید فراہم نہیں کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر یقینی کیفیت جتنی طویل ہوتی جائے گی، عوام کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں مستقبل کے بارے میں امید اور حوصلہ دینا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔
ادارت: کشور مصطفیٰ