پاکستان: کشمیر احتجاج میں ہوئی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

یو این ہفتہ 18 جولائی 2026 02:00

پاکستان: کشمیر احتجاج میں ہوئی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل بے چینی اور احتجاجی لہر کے تناظر میں تحمل سے کام لینے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جون سے اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں مظاہرین کے علاوہ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے ترجمان جیریمی لارنس کی جانب سےجاری کردہ بیان کے مطابق، ہائی کمشنر نے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت تمام لوگوں کی ہلاکتوں کی فوری، مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

(جاری ہے)

حقوق کی پامالی کے سنگین خدشات

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی میں تاجر، ٹرانسپورٹر، طلبہ، وکلا، سماجی کارکن اور دیگر طبقات شامل ہیں جسے حکومت نے عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے مبینہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دے دیا ہے جبکہ اس کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ سول سوسائٹی کی کسی تنظیم کو مجرمانہ قرار دینا اور عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کرنا، اظہار رائے، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے رہنماؤں کو اپنے وکلا سے رابطے اور اہل خانہ تک رسائی کی مکمل سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

علاوہ ازیں، ان کے قانونی حقوق، منصفانہ عدالتی کارروائی اور شفاف ٹرائل کی مکمل ضمانت بھی یقینی بنائی جائے۔

انٹرنیٹ پر پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

وولکر ترک نے کہا ہے کہ علاقے میں انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد پابندیاں بھی باعث تشویش ہیں۔ اس سے اظہار رائے کی آزادی، خصوصاً معلومات حاصل کرنے، انہیں وصول کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے حق پر غیر متناسب قدغن عائد ہوتی ہے جبکہ علاقے میں پہلے ہی کشیدگی کی صورتحال ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ علاقے میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کو یقینی بنائیں۔

ہائی کمشنر نے زور دیا ہے کہ مقامی آبادی کے بنیادی مسائل اور شکایات کو حل کرنے کے لیے بامعنی، جامع اور تمام متعلقہ فریقین کی شمولیت سے سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے۔