حکومت نے دنیا کا کوئی بینک نہیں چھوڑا جس سے قرضہ نہ لیا ہو، ارسلان خالد

ہفتہ 18 جولائی 2026 23:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جولائی2026ء) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ریکارڈ بیرونی قرضوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے دنیا کا کوئی بینک نہیں چھوڑا جس سے قرضہ نہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات نے موجودہ امپورٹڈ حکومت کی معاشی نااہلی کا پول کھول دیا ہے۔

اپنے ایک اہم بیان میں ارسلان خالد نے معاشی اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو صرف ایک سال میں 16 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 4 ہزار 517 ارب روپے کا قرضہ لے کر ملکی معیشت کی کمر توڑ دی گئی ہے اور موجودہ حکمران کشکول لے کر پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں۔

(جاری ہے)

جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی کراچی نے انکشاف کیا کہ صرف جون 2026 میں 4 ارب ڈالر سے زائد کا اندھا دھند قرضہ لیا گیا، جب کہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور آئی ایم ایف سب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے تجارتی بینکوں سے 1.90 ارب ڈالر کا مہنگا ترین کمرشل قرضہ لینے کو ایک "مجرمانہ فعل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت سدھارنے کے بجائے ملک کو قرضوں تلے دبا دیا ہے، یہاں تک کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں بھی 3 ارب ڈالر کا مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے۔

ارسلان خالد نے سوال اٹھایا کہ نان پروجیکٹ قرضوں کی مد میں لیے گئے 12.72 ارب ڈالر کہاں غائب ہوئی انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں قرضوں کا ایسا بے دریغ استعمال کبھی نہیں دیکھا گیا، موجودہ ٹولے کے پاس ملکی معیشت چلانے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کی اقساط کے نام پر عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے جبکہ حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

انہوں نے صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 20 فیصد یوکرین پر روس کے قبضے کی خبر سے زیادہ پاکستان پر قرضوں کا قبضہ تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکومت ریکارڈ قرضے لے رہی ہے، یہ حکومت پاکستان کی خودداری کا سودا کر چکی ہے۔ ارسلان خالد نے عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو معاشی دیوالیہ پن کی طرف دھکیلنے والوں کا کڑا احتساب ہوگا۔