وقت آگیا ہے کہ پارٹی کے اصلی وارث خود شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا "تجدید عہد" رابطہ مہم کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس میں اظہار خیال

اتوار 19 جولائی 2026 20:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 جولائی2026ء) پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ان تمام ورکرز کی امانت ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس کے لیے وقف کیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی کے اصلی وارث خود شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کی ذمہ داریاں سنبھالیں تاکہ پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت بحال ہوسکے۔

اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے یہ بات "تجدید عہد" رابطہ مہم کے سلسلے میں پہلے مشاورتی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی جو پاکستان تحریک انصاف راولپنڈی کے دیرینہ کارکن اور سابق سینئر صدر شمالی پنجاب اور ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے سابق صدر رانا سہیل احمد کے گھر پر گزشتہ روز منعقد ہوا۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکنوں نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں شریک چیدہ چیدہ کارکنوں میں نورین فاروق خان، سابقہ صدر پی ٹی آئی ویمن ونگ (لیبر)، بلال اظہر رانا، بانی رکن ٹیکسلا، فیصل پیرزادہ سابقہ ڈسٹرکٹ صدر راولپنڈی، آصف بانی انصاف یوتھ ونگ، راولپنڈی، شیخ سہیل امین، سابقہ سنیر نائب صدر، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، روہیل، سابقہ انچارج میڈیا سیل، امجد علی خان، سابقہ جنرل سکریٹری، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، حسیب، سابقہ یوتھ ونگ، واہ کینٹ، اور دیگر ارکان شامل تھے۔

پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے 2011 سے آج تک کے حالات پر تفصیل سے گفتگو کی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ان تمام ورکروں کی امانت ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس کے لیے وقف کیے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت اگیا ہے کہ پارٹی کے اصلی واراث خود شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کی ذمہ داریاں سنبھالیں تاکہ پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت بحال ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انتشار کی سیاست کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ تمام خودساختہ قیادت کہاں ہے جنہوں نے سستی شہرت کے لئے بے راہ روی کا راستہ اپناتے ہوئے جماعت کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے ؟۔ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی تعمیری سیاست کے لئے وجود میں آئی تھی ملک میں انتشار اور انارکی پھیلانے کے لئے نہیں۔

انہوں نے کہا 27 سال قید کے باوجود نیلسن منڈیلا نے رہائی کے بعد تعمیری سیاست کا راستہ اپنایا نہ کہ انتشار کا ۔یہی سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو انتشار سے بچائے نہ کہ وقتی سیاسی مفاد کے لیے معاشرے کو تقسیم کرکے انتشار میں ڈالے۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ ملکی سیاست کا رخ تعمیر اور ترقی طرف موڑ دیا جاتا مگر افسوس کہ چاپلوس اور کرپٹ طالع آزماؤں نے پارٹی پر قبضے کے بعد کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کی نئی داستانیں رقم کیں۔

پارٹی ایک جمہوری جماعت بننے کی بجائے طرح طرح کے طالع آزماؤں کی آماجگاہ بن گئی۔ آج بھی جو ٹولہ پی ٹی آئی پر قابض ہے اس کا پی ٹی آئی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کو ایک جمہوری اور شفاف ادارہ بنانا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔ شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد، خود احتسابی اور پارٹی کی قانونی حیثیت کی بحالی ہمارا بنیادی مقصد ہو گا۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ رابطہ مہم کو جاری رکھا جائے گا اور آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ مذید وسیع کیا جائے گا۔