کے الیکٹرک کے صنعتی صارفین کا بجلی کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

مالی سال 2026 میں صنعتی صارفین کا بجلی استعمال 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گیا، صنعتی طلب میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

جمعہ 24 جولائی 2026 08:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے ساتھ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ کمپنی کے مطابق صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6.08 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔

کمپنی حکا م نے کہا کہ یہ پیش رفت کراچی میں صنعتوں کو قابلِ اعتماد اور مسلسل بجلی کی فراہمی کے عزم کی عکاس ہے۔کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طٰہ نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ادارے کی نہیں بلکہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور قومی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک نے سال 2013 سے صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے والے فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا ہوا ہے اور آئندہ بھی قابلِ اعتماد اور پائیدار بجلی کی فراہمی کے ذریعے صنعتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔کمپنی کے مطابق صنعتی فیڈرز مختلف صنعتی زونز میں قائم پیداواری یونٹس کو بجلی فراہم کرتے ہیں، جہاں تمام صنعتی صارفین کے لیے اسمارٹ میٹرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے بجلی کے استعمال کی براہ راست نگرانی کر سکیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بجلی B-3 کیٹیگری کے صنعتی صارفین نے استعمال کی، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل اور دیگر بڑے صنعتی شعبوں کے متعدد یونٹس شامل ہیں۔کمپنی کے مطابق ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ صنعتی بجلی کا استعمال جون 2026 میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اپریل 2026دوسرے نمبر پر رہا۔

اس سے قبل صنعتی فیڈرز پر سالانہ بجلی کی بلند ترین فراہمی مالی سال 2022 میں 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی۔کے الیکٹرک حکام نے کہا کہ مالی سال 2022 کے بعد معاشی مشکلات کے باعث صنعتی بجلی کی طلب میں کمی دیکھی گئی، تاہم مالی سال 2026 میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی اور مالی سال 2025 کے 5.04 ارب یونٹس کے مقابلے میں بجلی کی کھپت میں 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کمپنی کے مطابق حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث صنعتی بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ اسی عرصے کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم کیے گئے جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب گرڈ میں شامل ہوئی۔کے الیکٹرک نے مزید بتایا کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح کمپنی کے تمام صارفین کے مختلف شعبوں میں سب سے بہتر رہی، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بروقت بلوں کی ادائیگی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کمپنی حکام نے کہا کہ وہ تمام تر چیلنجز کے باوجود کراچی کی صنعتوں کو بلا تعطل اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور شہر کی معاشی سرگرمیوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔