Live Updates

یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کا سفارت کاری کو موقع دینے پر اصرار

یو این منگل 28 جولائی 2026 12:00

یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کا سفارت کاری کو موقع دینے پر اصرار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 28 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ 9 جولائی سے اب تک یوکرین پر روس کے شدید فضائی حملوں میں 170 سے زیادہ شہری ہلاک اور 1,028 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ان حملوں میں رہائشی عمارتوں، کھیل کے میدانوں، پٹرول فراہم کرنے کے مراکز، بازاروں اور انتظامی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور میں یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹر کویوکو گوتو نے یوکرین کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت کیئو اور دیگر علاقوں پر مسلسل گولہ باری جاری ہے جبکہ محاذ جنگ کے قریب گنجان آباد علاقوں پر بھی روزانہ حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے اس جنگ میں اب تک 803 بچوں سمیت یوکرین کے کم از کم 16,431 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

علاوہ ازیں، 48,613 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 2,960 بچے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں حالیہ کشیدگی کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، روس کے حکام کی جانب سے بھی مختلف علاقوں میں تیل کی تنصیبات اور صنعتی ڈھانچے پر یوکرینی حملوں کے بعد شہری جانی نقصان میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کویوکو گوتو نے کہا کہ شہری تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہیں، اقوام متحدہ ان کی مذمت کرتا ہے اور انہیں بند ہونا چاہیے۔

توانائی اور خوراک کی فراہمی متاثر

انہوں نے بتایا کہ یوکرین میں فصلوں کی کٹائی کے نئے موسم کے آغاز پر حالیہ ہفتوں میں روس کی جانب سے بندرگاہوں اور بحری نقل و حمل پر حملوں کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر اس جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

روس نے یوکرین کی خوراک پراسیسنگ کی تنصیبات، زرعی مشینری اور کھیتوں پر بھی حملے تیز کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں کٹائی اور برآمد کے لیے تیار فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب، یوکرین نے بھی روس کے بحری رسد کے نظام اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

گوتو نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی کے اثرات عالمی زرعی منڈیوں میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک گندم کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو مارچ 2024 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیرہ اسود، بحیرہ آزوف اور دیگر اہم علاقوں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو بحری نقل و حمل، انشورنس، خوراک اور توانائی کی لاگت مزید بڑھ جائے گی جس کے سنگین نتائج خصوصاً درآمدی خوراک پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

مذاکرات بحال کرنے کی اپیل

کویوکو گوتو نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ زیپوریژیا جوہری بجلی گھر جنگ شروع ہونے کے بعد 22ویں مرتبہ بیرونی بجلی کی فراہمی سے مکمل طور پر محروم ہوا ہے۔

انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے اور اس کے تباہ کن اثرات شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور عالمی غذائی تحفظ پر مرتب ہو رہے ہیں ویسے ہی سفارتی کوششوں کی فوری بحالی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی میں کمی لانے اور فوری، جامع و غیر مشروط جنگ بندی کے لیے بامعنی بات چیت کا آغاز کریں۔

بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ

ہنگامی امدادی کے امور کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اندریکا راتواتی نے کہا کہ یوکرین میں امدادی ادارے انتہائی مشکل اور مسلسل بدلتی صورتحال کے باوجود ضرورت مند افراد تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان اداروں سے وابستہ امدادی کارکن لاکھوں افراد کو خوراک، ہنگامی رہائش، نقد امداد، طبی سہولیات اور نفسیاتی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

ہر نئے حملے کے ساتھ شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے، مزید خاندان اپنے عزیزوں سے محروم ہوتے ہیں، مزید گھر تباہ ہوتے ہیں، بنیادی سہولتیں متاثر ہوتی ہیں اور مزید لوگ اپنی بحالی کی کوششیں روکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کے تحفظ اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری تنازع کے تمام فریقین اور ان پر اثر رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون پر عمل کرنا اختیاری عمل نہیں بلکہ لازمی فریضہ ہے۔

Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات