ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل قائم، نوٹی فکیشن جاری

صرف لائسنس یافتہ کرپٹو سروس پرووائیڈرز کو بینکاری نظام تک رسائی کی اجازت ہوگی، غیرقانونی یا غیردستاویزی کرپٹو ٹریڈنگ اور مشکوک مالی سرگرمیوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی

Sajid Ali ساجد علی منگل 28 جولائی 2026 13:57

ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل قائم، نوٹی فکیشن جاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2026ء) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ورچوئل کرنسی، کرپٹو اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی غیرقانونی مالی سرگرمیوں، منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سائبر کرائمز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل قائم کر دیا، اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی منظوری کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیا خصوصی سیل کرپٹوکرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے مجرمانہ استعمال کی نگرانی، تحقیقات اور فرانزک تجزیے کا ذمہ دار ہوگا، اس ضمن میں حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالیاتی فراڈ، منی لانڈرنگ، غیرقانونی سرمایہ کی منتقلی اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت جیسے معاملات میں اضافے کے پیش نظر اس خصوصی یونٹ کا قیام ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔

(جاری ہے)

ایف آئی اے نے کہا ہے کہ اس نئے سیل کے تحت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کیا جائے گا، جہاں نیب، ایف بی آر، نیکٹا، پولیس سمیت دیگر قومی اور صوبائی ادارے باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ تحقیقات کریں گے، اس مربوط نظام کا مقصد مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا اور پیچیدہ مالی جرائم کی بروقت نشاندہی کرنا ہے، ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل مشکوک کرپٹو ٹرانزیکشنز، بلاک چین نیٹ ورکس، کولڈ والٹس، ڈیجیٹل اثاثوں اور دیگر ورچوئل مالیاتی ذرائع کا فرانزک آڈٹ بھی انجام دے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، عالمی معیار کے فرانزک ٹولز اور بین الاقوامی تحقیقاتی طریقہ کار اختیار کیے جائیں گے تاکہ مجرمانہ نیٹ ورکس کا سراغ لگا کر ان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جا سکے، پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بھی اپنا کردار ادا کرے گی، صرف لائسنس یافتہ کرپٹو سروس پرووائیڈرز کو بینکاری نظام تک رسائی کی اجازت ہوگی، اس اقدام کا مقصد غیر رجسٹرڈ اور غیر دستاویزی کرپٹو لین دین کی حوصلہ شکنی اور مالیاتی نظام کو محفوظ بنانا ہے۔

ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ غیرقانونی یا غیر دستاویزی کرپٹو ٹریڈنگ، ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے مالی فراڈ اور مشکوک مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، یہ اقدام نیشنل ایکشن پلان، انسداد دہشت گردی حکمت عملی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر مؤثر عملدرآمد کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔