- ایران کی آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان اور سعودی عرب سے ٹیلی فونک بات چیت
- عمان نے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا طریقہ کار ایران کے سامنے پیش کر دیا، ذرائع
ایران کی آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان اور سعودی عرب سے ٹیلی فونک بات چیت
ایران کے ریاستی ٹیلی ویژن کے مطابق ملکی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی اور سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
ریاستی نشریاتی ادارے کے مطابق اس بات چیت کے دوران ’’دونوں فریقین نے تعاون کو مضبوط بنانے اور علاقے میں استحکام قائم کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے آبنائے ہرمز پر مسلط عدم تحفظ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
(جاری ہے)
‘‘
واضح رہے کہ 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران اس آبنائے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث اس اہم گزرگاہ سے بحری نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یہ جنگ سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں تک بھی پھیل چکی ہے۔
تاہم گزشتہ چند دنوں میں خطے میں لڑائی کی شدت میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
عمان نے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا طریقہ کار ایران کے سامنے پیش کر دیا، ذرائع
عمان
نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے رضاکارانہ فیس کی بنیاد پر ایک ایسی مشترکہ علاقائی طریقہ کار کی تجویز پیش کی ہے، جسے خطے کے دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ایک خلیجی ذریعے نے منگل کے روز نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ عمانی تجویز کے تحت، جسے علاقائی حمایت بھی حاصل ہے، ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر تنہا اختیار استعمال نہیں کر سکے گا۔
یہ تجویز آبنائے ملاکا کے ماڈل پر مبنی ہے، جہاں آبنائے استعمال کرنے والے فریقین رضاکارانہ طور پر نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ اور تلاش و بچاؤ کے فنڈ میں حصہ ڈالتے ہیں۔
امریکہ
نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف فضائی حملوں کی مہم اچانک معطل کر دی تھی، جس سے ایک سفارتی حل کی امید پیدا ہوئی ہے، جو آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی بحالی ممکن بنا سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’’اچھی بات چیت‘‘ ہو رہی ہے اور معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
ادارت: رابعہ بگٹی